حضرت محمد ﷺ کی رضاعی بہن سیدہ شیؓما کا واقعہ جو آپﷺ کو لوریاں دیتی تھیں

میرے حضور ﷺ کی تو کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپﷺ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضورﷺ کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپﷺ کو لوریاں دیتی تھیں اس کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔

شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی سے زمانے میں زیادہ خوب صورت کوئی نہیں ۔

کہتے ہیں خوب صورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے تو جس کے بھائی کا رنگ حسین ہوتا تو وہ کہتی رنگ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور جس بہن کے بھائی کے نقوش اور خد و خال خوب صورت ہوتے وہ کہتی رنگ کیا ہے

اصل خوبصورتی تو نقوش اور خد و خال کی ہے جس بہن کے بھائی کی آنکھیں خوبصورت ہوتیں وہ کہتی میرے ویر کی جھیل جیسی آنکھیں تو دیکھو

اب بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں

اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور کہتیں نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں

آپ سے مقابلے کی بات تو نہیں کر رہے اور پھر جب کسی بہن کے بھائی کو سب متفقہ طور پر کہتیں کہ تیرا بھائی خوبصورت ہے تو اس کا فخر بھی تو دیدنی ہوگا اور اس کا ذوق آسمان کو چھونے لگتا

ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب ہے اسی میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دئے ہیں جن کا ترجمہ ہے

اے ہمارے ربّ میرے بھائی محمد(ﷺ) کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ لمبے ہوئے جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔

ہوتے ہوتے وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئی جن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ شریف چلے گئے

جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ آ گیا اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دئے گئے تو یہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے

اور قبیلے کے سردار ایک ایک گھر سے رقم جمع کر رہے ہیں ۔
چلتے چلتے یہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاص حصّہ گزار چکی تھیں اس سے کہنے لگے کہ اتنا حصّہ آپکا بھی آتا ہے

سیدہ شیمؓا نے کہا
کس لئے ؟
سردار اور ساتھ والے لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سُن کر کہنے لگی اچھا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں کہا ہاں

سیدہ شیمؓا نے کہا کہ تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لےچلو ۔
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے

قوم کے سرداروں کے ساتھ سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی ہیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے ہیں ،یہ مکی دور تو تھا نہیں مدنی دور تھا

اور سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے آگے جب بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رُک جا دیکھتی نہیں آگے کوچہِ رسول ﷺ ہے آگے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو؟؟؟؟

تو سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے

میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں
تلواریں جھک گئیں آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا

سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟

کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں اُن کو چھڑانے آئی ہوں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی

پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیں کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں مڑا کرتے

حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی

فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دئیے

آپ جو چاہیں کریں صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی ارشاد تو فرمائیں فرمایا میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں

سبحان اللہ ۔۔

Article Translated into Easy English

I had no sister in his presence, but when he went to Sayyidah, Sayyidah, there is mention of a foster sister.

The name of the woman who gave you the name was Sida Shima.
In the evening when women were busy cooking, the sisters would pick up their brother and take them out, and every sister thought that there was nothing better than my brother’s time.

They say that the beautiful eyes are in the eye of the beholder, so whose brother’s color is beautiful, she says nothing but color and the sister whose brother has the most beautiful and beautiful appearance, he says what color.

The real beauty is the imprint and the grace of a sister whose brother’s eyes are beautiful, she says, “Look at the lake like my enemy.

Now in the neighborhood of Banasad, girls raise their brothers, one says no like my brother and another says no one like my brother.

In the meantime, Sayeda Shima took his brother, Sayedna Mohammed, and from a distance he said my brother had also come, so everyone would bow down and say no. No one can fight your brother. We are talking to each other.

You are not talking about competition, and then when a sister’s brother unanimously says that your brother is beautiful, then his pride will also be felt and his tastes start to touch the sky.

Ibn Hisham is the first book of the Sirat, in which it is written that the Syeda Shi’mah took the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) and then bowed, and then he wrote the words of Lori and Lori.

Peace be upon our Lord my brother Muhammad (peace be upon him).

At that time, the time came that the Holy Prophet (peace be upon him) went to Mecca and Syeda Shema was also young, married in a tribe. The Prophet prophesied the proclamation of thirteen years, and he went to Madina Sharif.

When Ghazawat began, Muslims clashed with the tribe in which the tribe of Sayeda Shemma was married. Allah’s Messenger of Allah gave victory to the Muslims, then some people of that tribe were arrested and imprisoned at the hands of the Companions. When given, they started collecting ransom to release their prisoners

And the chiefs of the tribe are collecting money from one house to another.
On the way, they reached the house of Sayeda Shima, who had spent a certain part of his age, saying that so much of you also came.

Said Shima
for what ?
The chiefs and their companions said, “The fighting has happened and our men have been arrested. While talking, the name of Muhammad (peace be upon him) came on the lips of some one.” Sayed Shima said, “Well, they have caught your people.”

Sayeda Shema said, “Stop collecting money and take me with you.”
The chief said: Take you with me?
Sayed Shima said, “You don’t know what my brother looks like.”

With the leaders of the nation, Syeda Shi’mah is going to the tents of the Holy Prophet and the companions are guarding the naked swords, it was Makki, not Madani.

And when the leaders of the Shi’a Shi’ma started to advance, the Companions heard swords and cried.
And the lady of the village does not want to stop and the Messenger of Allah is there.

So this is the Urdu translation of the words that Sayeda Shima said in reply

Leave me alone You do not know I am the sister of your Prophet
Swords bowed, eyes twinkled and left

When Sayeda Shema entered the Holy Prophet’s tent, Noor saw and recognized him. Immediately he got up and said, “How did the sister come?”

He said, “Your people have caught some of our servants. I have come to rescue them.”
The Prophet (peace be upon him) said: “Sister, why did you bother? The messenger left the message but you came and met well.”

Then the Holy Prophet announced the release of the prisoners, giving some horses and a couple of gifts to Sida Shima.

The Holy Prophet (ﷺ) gave a lot and came out of the tent to leave while the congregation of the Companions was waiting.

He said: O companions! You know that every time I release a prisoner, it is my habit to consult you, but today is the time when I did not consult you and release the prisoner.

Whatever you wish, the Companions said, “Why do you not advise the Prophet (peace be upon him), then say:” My sister came to my door.

Subhan Allah ..

Tags: 
prophet muhammad, prophet muhammad saw, prophet muhammad story, life of prophet muhammad, ring of prophet muhammad, ring of prophet muhammad saw, birth of prophet muhammad wiki,stories of the prophets, story of prophet muhammad saw, waqia, prophet muhammad ka waqia, story of magic on prophet muhammad saw, nabi saw ki angoothi ka waqia | ring of prophet muhammad saw, prophet, ring of prophet mohammed saw, muhammad,hazrat muhammad, prophet muhammad, hazrat muhammad saw ki wafat, prophet muhammad story,  hazrat muhammad pbuh, hazrat muhammad saww,hazrat muhammad mojza, hazrat muhammad sahab, who is hazrat muhammad, prophet muhammad saw, amad e hazrat muhammad (saww), hazrat muhammad ki zindagi, hazrat muhammad (saw) ka mojza, last prophet muhammad movie, story of prophet muhammad, muhammad prophet,

admin

Read Previous

کیا 29 اپریل 2020ء کو زمین سے ایک پتھر ٹکرانے والا ہے، جس وجہ سے دُنیا کا خاتمہ ہوجائے گا؟

Read Next

یہ کوئی پرندہ نہیں بلکہ مہامیرو یا آریہ کے پھول اور پودا ہے جو اگست میں ہر 400 سال بعد ہمالیہ میں آگتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *