Sahaba

خلیفہ سوم حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورینؓ

Third Caliph Hazrat Uthman ibn Affan R.A

خلیفہ سوم و داماد رسول حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورینؓ
آپ نے ۱۲ سال تک ۴۴ لاکھ مربع میل پر اسلامی پر چم لہرایا۔

حضرت عثمان غنیؓ کی وجہ سے ۴۵۰ اصحابہ کو قرآن نے جنت کی خوشخبری سنائی۔

تعارف
ماہتاب رسالت صلى الله عليه وسلم کے روشن ستاروں میں حضرت عثمان ذوالنورینؓ کا نام بہت نمایاں ہے ۔ آپ کے جودوسخا، حلم وعطاء ، عشق مصطفوی ، جذبہ و شوق اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے والہانہ تعلق ایک ایسی درخشندہ کہانی ہے جو مخالف موافق تمام حلقوں میں مسلم ہو چکی ہے ۔ مغربی اور یورپین مستشرقین سے لے کر اسلام کے نابغہ روزگار مؤرخین تک سب نے خلیفہ  راشد حضرت عثمانؓ کے کارہائے نمایاں اور عبقری کردار کو امت مسلمہ کے لئے نشان راہ قرار دیا ہے۔ عمر کی ۸۲ منزلیں گزار کر نہایت مظلومیت کے ساتھ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے پڑوس میں جس طرح انہیں شہید کیا گیا اور پھر جس طرح ۴۰ روز تک آپ پر کھانا پینا بند رکھا گیا وہ بھی صفحہ تاریخ کا المناک باب ہے ۔

ولادت
حضرت عثمانؓ عام الفیل کے چھ برس بعد یعنی ۵۷۷ھ میں پیدا ہوئے ۔

شجرہ نسب
آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے : عثمانؓ بن عفان ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب قریشی اموی از تاریخ الخلفاء علامہ جلال الدین سیوطی ۔ اس طرح آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے جا ملتاہے۔

حضرت عثمانؓ کا قبول اسلام
طبقات ابن سعد کے مطابق آپ نے چوتھے نمبر پر اسلام قبول کیا۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا کلمہ پڑھنے کے جرم میں آپ کو آپ کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا۔ کئی روز تک ایک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا۔ چچا نے کہا جب تک تم نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا  اچھا، خدا کی قسم! میں مذہب اسلام کبھی نہیں چھوڑوں گا اور اس دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا ۔ چناچہ حکم بن ابی العاص نے آپؓ  کو مجبور ہو کر آزاد کر دیا۔

آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے ساتھ قرابت داری
حضرت عثمان غنیؓ اگر چہ بنوامیہ کے چشم و چراغ تھے اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے ۔ تاہم قریش کے ان دو عظیم خاندانوں اور قبیلوں میں امتزاج ملاحظہ ہو کہ حضرت عثمانؓ بھی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے ۔

آپؓ کی نانی ام حکیم الیضاء بنت عبد المطلب آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے والد حضرت عبد اللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔ اس طرح آپؓ حضور صلى الله عليه وسلم کی پھوپھی کے نواسے ہوئے ۔

آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے اپنی بیٹی رقیہ کا نکاح آپ کے ساتھ کیا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو ان کی بہن ام کلثوم بھی ان کے نکاح میں دے دی۔ ام کلثوم کی وفات کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح عثمانؓ کے ساتھ کر دیتا۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی دو بیٹیوں کے نکاح کی وجہ ہی سے آپ کو ذوالنورین یعنی دونوروں والا کہا جاتا ہے۔

آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ایک موقع پر فرمایا۔ میں نے کسی بیوی کے ساتھ یا اپنی کسی بیٹی کا نکاح اللہ کی وحی کے بغیر نہیں کیا۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان سے الله اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے ہاں آپؓ کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت عثمانؓ نے آپ صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ اس موقع پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا یہ جوڑا بہت خوبصورت ہے۔ اس طرح ہجرت مدینہ اور ہجرت حبشہ کے بعد آپؓ کو ذوالحجر تین کا لقب عطا ہوا۔

ابن عساکر میں ہے
حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلى الله عليه وسلم تک کوئی انسان ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں آئی ہوں سوائے عثمانؓ کے ۔

حضرت رقیہ کے بطن سے آپؓ کے ہاں ایک لڑکا عبدالله پیدا ہوا ۔ عبدالله کے بارے میں ایک روایت ہے کہ وہ آٹھ دس سال کی عمر میں مرغ کی چونچ کے زخم سے وفات پا گیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ عبدالله جنگ یرموک میں شہید ہوا اور اس نے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ۔ اس طرح آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے نو اسے دین اسلام کی ایک بڑی جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے ۔

حضرت عثمانؓ کے وجہ سے ۱۴۵۰ سو صحابہؓ کے لئے جنت کا اعلان
امام ترمذی، حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر حضرت عثمانؓ ، حضور صلى الله عليه وسلم کی طرف سے سفیر بن کر مکہ گئے تھے ۔ خبر مشہور ہوگئی کہ عثمانؓ شہید کر دیئے گئے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کون ہے جو عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لئے میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔

اس وقت ساڑھے چودہ سو صحابہؓ نے حضرت عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لئے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔ اس بیعت کے بعد خدا کی طرف سے درج ذیل الفاظ میں ان خوش نصیب صحابہ کرام کے لئے رضا مندی کا اعلان کیا گیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے راضی ہو گیا جنہوں نے اے پیغمبر درخت کے نیچے بیٹھ کر تیرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ خدا ان کے قلوب کو جانتا ہے۔ پس اس نے طمانیت اور سکون اتارا ان پر اور فتح ان کے لئے بہت قریب ہے۔

حضرت عثمانؓ کی فضیلت میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے ارشادات
آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ہوگا، میرا ساتھی عثمانؓ ہو گا ۔

ابن عساکر نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
میرے پاس سے جب عثمانؓ گزرے تو میرے پاس فرشتہ بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا یہ شہید ہیں ۔ ان کو قوم شہید کر دے گی ۔ مجھے ان سے شرم آتی ہے ۔

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
جب حضرت عثمانؓ ہمارے پاس آتے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے لباس کو درست فرما لیتے اور فرماتے تھے میں اس سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں ۔

حاکم مستدرک نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
اے عثمانؓ! الله تعالیٰ تجھے خلافت کی ایک قمیض پہنائے گا۔ جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا ، یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو چناچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے حضور صلى الله عليه وسلم نے عہد لیا تھا ، چناچہ اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
آنحضرت اللہ کے حکم کے مطابق حضرت عثمانؓ نے دومرتبہ جنت خریدی ہے۔ ایک مرتبہ روم خرید کر، دوسری مرتبہ جنگ تبوک میں ایک ہزار اونٹ دے کر ۔

امام ترمزی نے عبد الرحمن بن قیاب کے حوالے سے لکھا ہے کہ
جنگ تبوک کے موقع پر جب تمیں ہزار صحابہ کرام کا ڈھائی لاکھ رومی عیسائیوں سے مقابلہ تھا، آنحضرت صلى الله عليه وسلم صحابہ کرام کو ترغیب دے رہے تھے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے گھر کا سارا سامان اور فاروق اعظم نے نصف سامان دیا تھا۔ حضرت عثمانؓ بن عفان نے عرض کی کہ میں دوسو اونٹ سامان کے لدے ہوئے دیتا ہوں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ ترغیب دی ، حضرت عثمانؓ پھر اٹھے کہ میں تین سو اونٹ پھر دیتا ہوں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر ترغیب دی، آپ پھر بولے کہ میں دوسو اونٹ پھر دیتا ہوں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر ترغیب دی ،سید نا عثمانؓ چوتھی بار بولے کہ میں دو سو اونٹ اور ایک ہزار اشرفیاں اور دیتا ہوں ۔ یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم منبر سے نیچے اتر آئے ۔

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ماضر عثمانؓ ما عمل بعد اليوم
آج کے بعد عثمانؓ کوکوئی گناہ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

ابن عدی اور ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا
ہم اور عثمانؓ اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بہت مشابہ ہیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ
میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بھی اتنا ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے نہیں دیکھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی بغل مبارک ظاہر ہو جائے مگر عثمان غنیؓ کے لئے جب آپ دعا فرماتے تھے ۔

حضرت سعید سے روایت ہے کہ
میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا اول شب سے طلوع فجر تک ہاتھ اٹھا کر عثمانؓ کے لئے دعا فرماتے رہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے: اے اللہ ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔

ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
اللہ تعالیٰ نے تیرے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں جو تجھ سے ہو چکے یا قیامت تک ہوں گے ۔

حضرت عثمانؓ کی دس اہم خصوصیات
اب عسا کر میں ہے کہ جب عثمانؓ پر بلوائیوں نے عرصہ حیات تنگ کر دیا اور آپ گھر میں محصور تھے ، اس موقع پر آپ نے باغیوں کو پ نے باقیوں خطاب کرتے ہوئے فرمایا
میری دس خصال میرا رب ہی جانتا ہے لیکن آج تم ان کا لحاظ نہیں کرتے ۔

میں اسلام لانے میں چوتھا ہوں ۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی صاحبزادی میرے نکاح میں دی۔ جب پہلی صاحبزادی فوت ہو گئی تو دوسری نکاح میں دے دی۔
میں نے پوری زندگی کبھی گا نانہیں سنا۔
میں نے کبھی برائی کی خواہش نہیں کی ۔
جس ہاتھ سے حضور صلى الله عليه وسلم سے بیعت کی اس ہاتھ کو آج تک نجاست سے دور رکھا حتی کہ میں غسل خانے میں کبھی ننگے بدن غسل نہ کیا۔
جب سے اسلام لا یا کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا کہ میں نے غلام آزاد نہ کیا ہوا گر کسی جمعہ کو میرے پاس غلام نہیں ہوا تو اس کی قضا ادا کی ۔
عہد جاہلیت اور عہد اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا۔
نہ ہی کبھی چوری کی ۔
میں نے عہد رسالت میے میں پورا قرآن حفظ کیا۔

حضرت عثمانؓ کی خانگی اور ازدواجی زندگی
خلیفہ سوم نے ۹ شادیاں کیں ۔ آپ کے ۱۰ بیٹے اور ے بیٹیاں تھیں ۔ آپ کی سب سے پہلی شادی دختر رسول صلى الله عليه وسلم حضرت رقیہ سے ہوئی اور ان کے انتقال کے بعد دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے ۔ ان کے بعد فاختہ بنت عزوان بن جابر سے ہوئی ۔ دیگر ازواج میں ام عمر و بنت جندب ، فاطمہ بنت ولید ، اسماء بنت ابی جہل ، ملیکہ بنت عینیہ، رملہ بنت شیبہ، نائلہ بنت فرافصہ کا نام طبری اور انساب الاشراف میں بلاذری نے نقل کیا ہے ۔ اولاد میں عبداللہ الاکبر، عبداللہ الاصغر،عمرو، ابان، خالد، عمر ولید ، سعید مغیرہ ،عبدالملک ، ام سعید ، ام ابان ، ام عمره، عائشہ ام البنین ، مریم صغریٰ اور ام خالد کا نام تاریخ میں محفوظ ہے۔

اوصاف و کمالات
سفید رنگ ، خوبصورت و جاہت متوازن قد و قامت
، چہرے پر چیچک کے چند نشانات ، داڑھی گنجان اور زلف دراز کے حامل حضرت عثمانؓ جب لباس زیب تن کر کے عمامے سے مزین ہوتے تو بڑے خوبصورت معلوم ہوتے ۔ آپؓ خوش شکل اور خوش قامت ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سیرت و کردار کے خلعت سے آراستہ تھے ۔ بڑے پیمانے پر تجارت کے باعث شروع ہی سے دولت مند تھے ۔ اس لئے لباس بھی عمدہ پہنتے تھے۔ آپ کی غذا عدہ اور اعلیٰ معیار کی تھی ۔ آپؓ لذیذ اور نفیس غذاؤں کے عادی تھے۔ عرب میں بہت بڑے مالدار ہونے کے باوجود آپؓ کا طرز زندگی سادگی سے عبارت تھا۔ رہن سہن ، اخلاق و اطوار اور خلق و کردار میں آپؓ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے طریقوں کو مشعل راہ بناتے ۔

آپؓ کا ہر کام اتباع سنت سے آراستہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپؓ وضو سے فارغ ہو کر مسکرائے ، لوگوں نے اس موقع پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو وضو کے بعد اسی طرح مسکراتے دیکھا ہے ۔
(مسند احمد بن حنبل)

ایک مرتبہ مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر بکری کے گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا منگوایا اسے تناول فرمایا اور تجدید وضو کے بغیر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ فراغت کے بعد ارشاد ہوا : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی اسی جگہ بکری کا گوشت تناول فرمایا تھا اور پھر اسی طرح بغیر تجدید وضو کے نماز پڑھی تھی ۔ تقوی وطہارت حضرت عثمانؓ کا جو ہر ذاتی تھا۔ گناہ و معصیت اور کفران و عصیان سے آپ کی طبیعت کو نفور تھا۔

سلیمان بن موسیٰ کابیان ہے
ایک مرتبہ حضرت عثمانؓ چند لوگوں کے ہاں مدعو تھے ۔ یہ مجمع ایک ناپسندیدہ مشغلہ گانے بجانے میں مصروف تھا لیکن جب حضرت عثمانؓ وہاں پہنچے تو مجمع منتشر ہو چکا تھا۔ آپ کواس قبیح واقعہ کاعلم ہواتو خدا کاشکرادا کیا اور بطور کفارہ ایک غلام آزاد کیا ۔ (صفته الصفوه)

حضرت عثمان غنیؓ کا قول و فعل سنت کا رسول صلى الله عليه وسلم کی اتباع سے معمور تھا۔ آپؓ کا قلب و ذہن احترام رسول عشق مصطفوی اور شفتگی حق سے آراستہ تھا۔ آپ کے بڑے کمالات میں سخاوت حلم اور حیاء نے اپنوں اور غیروں سے لوہا منوایا ہے۔

اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے آپ کو کتابت وحی جیسے اعزاز سے بھی نوازا۔ قرآت قرآن، تدوین حدیث اور جمع کتاب اللہ آپ کے منفرد کمالات ہیں ۔ آپ کے اجتہادات، فرامین و مراسلات، خطبات و تقاریر آنے والی پوری امت مسلمہ کے لئے خزانہ عامرہ ہے۔

خلیفہ راشد حضرت عثمانؓ کا طرز حکومت
تیسرے خلیفہ حضرت عثمان ذوالنورینؓ کا دور۱۲ سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں کابل سے لے کر مراکش تک وسیع وعریض خطہ اسلام کے سایہ عاطفت میں رہا۔ شرافت و حیاء، بے نفسی آپ کا طرہ امتیاز تھا۔ خلفاء میں آپ کو سادہ مزاجی، عاجزی اور فروتنی میں اعلیٰ مقام حاصل تھا۔ سب سے زیادہ مالدار ہونے کے باوجود آپ کا اعلیٰ اخلاق، خدا ترسی اور حسن سلوک ضرب المثل بن گیا تھا۔ دولت وثروت اورمال و جائیداد میں سب سے پہلے ہونے کے باوجود جب خلافت کا بار گراں آپ کے کاندھوں پر آیا تب بھی آپ کی خشیت الہی، ورع و تقوی، للہیت و عبادت گزاری میں سرموفرق نہ آیا۔

اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے آپ تجارتی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے۔ اس طرح ذرائع آمدن محدود یا مسدود ہو گئے ۔ ادھر دریا دلی، فیاضی، جود و سخا میں کوئی فرق نہ آیا ۔ اس طرح آہستہ آہستہ دولت کی فراوانی ختم ہوگئی۔ ان حالات کو سمجھنے کے لئے حضرت عثمانؓ کا ایک قول ملا حظہ ہو جسے قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں نقل کیا ہے ۔

جس وقت میں نے منصب خلافت قبول کیا تھا، میں پورے عرب میں اونٹوں اور بکریوں کا سب سے زیادہ مالک تھا اور آج میرے پاس حج کے دواونٹوں کے سوا ایک اونٹ اور ایک بکری بھی نہیں ۔

عزیمت کا یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر حضرت عثمانؓ نے ۴۴ لاکھ مربع میل کے وسیع علاقے پر اسلامی سلطنت قائم کی ۔ہمارے حالات پر غور کیا جائے تو معاملہ سا را برعکس نظرآتا ہے یعنی ایک چھوٹے سے چھوٹے عہدے والے انسان کی سب سے پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ جس طرح بھی ممکن ہو دولت جمع کرے۔ ناجائز ذرائع سے جائیداد بنانا، بینک بیلنس رکھنا، پلاٹ اور کوٹھیاں تعمیر کرنا اس کی اولین ترجیحات ہوتی ہیں ۔ پٹواری اور تحصیل دار سے لے کر وزیر تک ہر شخص رشوت، دھوکہ، فریب اور خیانت کے سارے ریکارڈ توڑ کر راتوں رات امیر بنے کا خواب دیکھتا ہے۔ حصول زر کے لئے تن من دھن لٹا دیتا ہے ۔ وہ اپنے فرائض منصبی بھول کر صرف ذاتی منفعت کو مقدم رکھتا ہے۔ منتخب اراکین اسمبلی میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو انتخابات میں خرچ کی گئی رقم جمع کرنا سب سے اہم فریضہ خیال کرتے ہیں ۔

عہد حاضر میں ایک محلہ اور وارڈ کے کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی کے رکن تک ہر شخص قومی مفاد پر ذاتی مفاد اور قومی توانائی کے بجائے ذاتی توانائی کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن جس محمدی شریعت اور خلافت راشدہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں یہاں پورے پچاس سالہ دور میں ایک واقعہ بھی ایسی خیانت اور نا ہمواری کا نظر نہیں آتا۔

ہمارے ہاں چھوٹا طبقہ تو اپنے ملک ہی سے اپنا ذاتی مفاد وابستہ رکھتا ہے لیکن اعلیٰ حکمران سوئٹزرلینڈ کے بینکوں ، اعلیٰ تجارتی ٹھیکوں، اسلحہ کی خرید وفروخت کے ذریعے قومی دولت کا اربوں روپیہ خرد برد کر کے قوم و ملک کے خادم کہلاتے ہیں ۔ کئی ممالک کے حکمران غیر ملکوں میں شاندار بنگلے، پرشکوہ محلات، کارخانے تعمیر کر کے اپنی غریب اور پسماندہ قوم کا منہ چڑاتے ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کا درخشندہ دور ان ساری خرافات سے کوسوں دور ہے۔ غلط فہمی اور کج روی کے باعث بعض قلم کاروں نے حضرت عثمانؓ کے دور کے ایسے واقعات پر بھی طعن کیا ہے جس میں آپ نے بعض اقارب کو رقوم عطا کی تھیں، لیکن تمام کتابوں میں اس کی بھی تصریح موجود ہے کہ حضرت عثمانؓ نے جس کو بھی رقم دی اپنی گرہ سے دی ۔ انہوں نے تو ۱۲ سال تک قومی خزانے سے خود تنخواہ کا ایک روپیہ حاصل نہیں کیا۔ خلافت اسلامی کا یہ وہ اعجاز ہے جس پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے۔

غذا اور لباس
حضرت عثمانؓ کا رہن سہن اور غذا کا معیار نہایت اعلیٰ تھا۔ خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ آپ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق عمدہ لباس پہنتے ، اعلیٰ مکان اور اچھے ماحول میں رہتے ، اچھی خوراک استعمال کرتے ۔ یہ سب کچھ ان کے ذاتی مال سے خرچ ہوتا تھا۔

حضرت عمرہ بن امیہ ضمری کا بیان ہے
میں شام کے وقت حضرت عثمانؓ کے ساتھ خزیرا ( عربوں کی سب سے عمدہ خوراک ) کھایا کرتا تھا۔ اس جیسا خزیرا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس میں بکری کا کلیجہ، دودھ اور گھی استعمال ہوتا تھا۔ امیر المومنین نے مجھ سے پوچھا طعام کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا یہ تو بہت عمدہ ہے میں نے ایسا کھانا کبھی نہیں کھایا۔ آپؓ نے فرمایا: خدا کی قسم میں یہ مسلمانوں کے مال سے نہیں کھاتا اپنے مال سے کھا تا ہوں ۔ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں میں ہمیشہ اچھی غذا کھاتا ہوں ۔

مشہور اسلامی مؤرخ امام محمد بن سعد طبقات میں لکھتے ہیں
گو آپؓ اچھے کپڑے استعمال کرتے تھے لیکن ان میں تکلفات کا دخل نہیں ہوتا تھا۔ ایسے کپڑوں سے نہایت پر ہیز کرتے تھے جن سے مزاج میں غرور، تکبر، نخوت اور خود بینی کا مادہ پیدا ہو ۔ عرب کا خالص لباس جو رومی امراء پہنتے تھے آپ نے وہ بھی کبھی استعمال نہیں کیا نہ اپنی بیویوں کو پہنے دیا۔ تمام عمر پائجامہ نہیں پہنا ۔ صرف شہادت کے وقت ستر کے خیال سے پہن لیا تھا۔

امور مملکت کی خصوصیات
حضرت عثمانؓ کا۱۲ سالہ دورحکومت عدل وانصاف، اخوت و مساوات اور رعایا پروری کا نمونہ تھا
۔ قارئین کرام ، آپ نے ملاحظہ کیا کہ عرب کا سب سے زیادہ مالدار انسان مند حکومت پر براجمان ہونے کے بعد ذاتی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جس شخص کے دریائے سخاوت سے ہر خستہ حال سیراب ہوتا رہا وہ اگر کسی کو ذاتی مال سے نفع پہنچاتا ہے تو مغرب زدہ بعض مؤرخین اور سیاست سے آلود بعض قلم کار اسے بھی طعن کا نشانہ بناتے ہیں۔ بالآخر وہ صاحب عزیمت اس حال کو پہنچا کہ اونٹوں اور بکریوں کے بڑے بڑے ریوڑوں میں صرف ایک اونٹ اس کے پاس رہ گیا۔

بعض معاصر قلم کا رخلیفہ سوم کے بارے میں سبائی روایات اور تاریخ کے رطب و یابس کا شکار ہو گئے ہیں ۔ انہیں آپ کے دور کی تاریخ ساز فتوحات، حیرت انگیز ہمہ گیری، بے مثال رعایا پروری ، معاشی استحکام اور دور تک اسلامی اقدار کا بر سنے والہ مینہ اور چمکنے والی کر نہیں نظر نہیں آتیں ۔ جس طرح انہوں نے حضرت عثمانؓ پر اعتراضات اور الزامات کو نمایاں سرخیوں سے تحریر کیا ہے ، اس کے مقابلے میں ان کے کارناموں کو اہمیت نہیں دی گئی ۔

حضرت عثمان غنیؓ کے بارے میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اپنی معرکہ الاراء کتاب منہاج السنہ میں تمام اعتراضات کا جواب دے چکے ہیں ۔ پوری امت مسلمہ کو اب اس صفائی کے بعد آپ پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔ دوسو سال بعد تحریر کی جانے والی تاریخ کو بہانہ بنا کر ایسے شخص کی کردار کشی نہیں کی جاسکتی جس کی بلندی مرتبت ، اعلیٰ مقام اور عظمت پر نہ صرف یہ کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم ، بلکہ قرآن بھی گواہی دے چکا ہے۔

خلافت راشدہ کا یہ اعجاز بھی کچھ کم نہیں ہے کہ پہلا خلیفہ متوسط گھرانے کا چشم و چراغ ہے لیکن آخری وقت میں وہ پرانے کپڑوں کے کفن پہنانے کا حکم دیتا ہے تا کہ اچھے کپڑے غریبوں کے کام آجائیں ۔ دوسرا خلیفہ معاشی طور پر اتنا محکم نہ تھا لیکن وہ بھی سال بھر میں صرف ۵ ہزار درہم وصول کرتا ہے ۔ یہی سالانہ آمدنی اس شخص کے حصے میں آتی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے تمام صوبوں کے گورنر ، قاضی اور ارکان دولت کی چھان پھٹک کر کے نہایت زیرک اور محنتی حاکم مقرر کئے ۔ تمام مفتوحہ ممالک کے علیحدہ علیحدہ علاقوں کو ریاستوں کی شکل میں مختلف یونٹوں میں تقسیم کیا ۔ ۴۴ لاکھ مربع میل میں تمام آبادکاروں کو زمین کے مالکانہ حقوق کے پروانے جاری کئے ۔ پولیس کے محلے کو انقلابی بنیادوں پر مستحکم کیا۔

دنیا کے تمام مسلمانوں کو قرآن کریم کی ایک قرآت پر جمع کر کے قرآن کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں مملکت کی حدود بہت وسیع ہو گئی تھیں ۔ یہاں انتظامی شعبوں کا اجراء اور ہر علاقے میں سستے انصاف کی عدالتوں کا قیام بھی آپ کا منفرد کارنامہ ہے۔ خلیفہ سوم کا طریقہ یہ تھا کہ ہر تین یا چھ ماہ بعد گورنروں اور عمال حکومت کے نام ہدایات جاری طاق کرتے رہتے ۔ عدل وانصاف کے تمام تقاضوں کا خیال کر کے پوری حکومتی مشینری کو رعایا پروری کا حکم جاری کرتے ۔

آپ کا دور حکومت بے مثال اصلاحات اور فلاحی مہمات سے عبارت تھا۔ سادہ طرز زندگی ، سادہ اطوار، اعلیٰ اخلاق ، عام آدمی تک رسائی ظلم وجور سے نفرت ، زیادتی اور تجاوز سے دوری ، آپ کے شاہکا رکارناموں میں شامل ہے ۔

عوام پر بلا وجہ ٹیکسوں کی ممانعت
ایک مرتبہ حضرت عثمانؓ نے گورنروں کے نام حکم نامہ روانہ کیا
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے امام یا امیر کو یہ حکم دیا کہ وہ قوم کا نگران یا چرواہا ہو اور اس نے اس کو اس لئے امیر نہیں بنایا کہ وہ عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے روند ڈالے ۔ (مشاہیر اسلام ، ج۴)

مسند خلافت سے …. تمغہ شہادت تک
حضرت سیدنا فاروق اعظم پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ نے عشرہ مبشرہ میں سے چھ نامور شخصیات کو نامزد کر کے انہی میں سے خلیفہ کے انتخاب کا حکم دیا۔ یہ چھ اصحاب حضرت عثمانؓ  ، حضرت علی ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت سعید بن زید تھے ۔ بالآخرعبد الرحمن بن عوف نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے حضرت عثمانؓ کو خلیفہ نامزد کر دیا۔

حضرت عثمانؓ ۲۴ ہجری میں سریر آرائے خلفت ہوئے تو آپ کو شروع میں ۲۲ لاکھ مربع میل کے ایسے خطے پر حکومت کرنی پڑی جس پربیشتر ممالک فتح ہو چکے تھے لیکن یہاں مسلمان مستحکم نہ ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ یہ ریاستیں دوبارہ کفر کی آغوش میں نہ چلی جائیں لیکن خلیفہ سوم نے ۱۲ دن کم ۱۲ سال تک ۴۴ لاکھ مربع میل کے وسیع وعریض خطے پر اسلامی سلطنت قائم کی ۔

حضرت عثمانؓ کے پہلے چھ سال فتوحات اور کامرانیوں کے ایسے عنوان سے عبارت ہیں جن پر اسلام کی پوری تاریخ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ۔ خلافت اسلامیہ کے تاجدار ثالث نے فوجوں اور عسکری قوتوں کو جدید بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ آپ ہی کے دور میں حضرت معاویہ امیر شام نے اسلام کا پہلا بحری بیڑا تیار کر کے بحراوقیانوس میں اسلام کا عظیم لشکر اتار دیا تھا۔ اس طرح پاپائے روم پر سکتہ طاری کر کے آپ کی فوجوں نے فرانس اور یورپ کے کئی ملکوں میں اسلام پہنچا دیا تھا۔ ہندوستان اورافریقی ممالک میں محمدی سورج کی کرنیں بھی آپ ہی کے دور میں پہنچی تھیں ۔ اسلامی فوجوں نے عثمانی دور ہی میں سندھ، مکران، طبرستان اور متعدد ایشیائی ممالک فتح کئے تھے۔

حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے دور خلافت کے آخری سالوں میں آپ کی پے در پے کامیابیوں نے یہود و مجوس اور شرک و شلیت کے خوگروں کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے ۔ وہ کسی طرح بھی عہد عثمانی کی وسعت اور ہمہ گیری کو برداشت نہ کر سکتے تھے ۔ سامنے آ کر جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں نے منافقوں کا ایسا لشکر تیار کیا جو حضرت عثمانؓ پر اقرباء پروری اور خیانت کا الزام لگانے لگا۔

منافقت اوردجل و فریب کے بہی خواہوں نے مصر سے ایک سازش کا آغاز کیا۔ ساڑھے سات سو بلوائی ایک خط کا بہانہ بنا کر مدینہ منورہ پہنچے ، بغاوت کا ایسا وقت طے کیا گیا جب مدینہ منورہ کے تمام لوگ حج پر گئے ہوں ، صرف چند افراد یہاں موجود ہوں ۔ ایسے وقت میں امیر المومنین کو خلافت سے دستبردار کروا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جائیں ۔ من مانی کا روائی کے ذریعے اسلام کے قصر خلافت کو مسمار کر دیا جائے ۔ رسول اللہ کے شہر کو آگ اور خون میں مبتلا کر کے اسلام کی مرکزیت کو پارہ پارہ کر دیا جائے ۔ فتوحات اور کامیابیوں کے راستے میں فوری طور پر سد سکندری کھڑی کر دی جائے ۔ ۳۵ ہجری ذیقعد کے پہلے عشرے میں باغیوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا۔

حافظ عمادالدین نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ
باغیوں کی شورش میں بھی حضرت عثمانؓ نے صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا۔ قریباً ۴۰ روز تک بھوکے اور پیا سے ۸۲ سالہ مظلوم مدینہ حضرت عثمانؓ کو جمعہ ۱۸ ذوالحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ تلاوت قرآن کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔

سیدہ عائشہ نے جب امیر المومنین کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا

لقد قتلوه رانه لمن اوصلهم للرحم واتقاهم للرب
تحقیق انہوں نے عثمانؓ کو قتل کیا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ صلہ رحم کرنے والے اور پروردگار کا خوف کھانے والے تھے ۔

شہادت پر سید نا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد
سید نا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کو جب لوگوں نے آکر امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کی خبر شہادت سنائی تو فرمایا
ثبتا لكم اخر الدھر ۔ اب تم پر ہمیشہ تباہی رہے گی ۔

قیس بن عبادہ کہتے ہیں کہ جنگ جمل میں میں نے ایک روز سید ناعلیؓ کو فرماتے ہوئے سنا
اللهم انى ابرء اليك من دم عثمانؓ ولقد طاش عقلى يوم قتل عثمانؓ و انكرت نفسى وجاء ونى للبيعة فقلت والله اني لاستـحـى مـن الله قوما تتلرا عثمانؓ واني لاستجى من الله ان ابايع وعثمانؓ لم يدفن بعد فانصر فرافلما رجع الناس فسب لوني البيعة قلت اللهم انى مشفيق مما اقدم عليه ثم جائت عزيمة بنايعت فقالوايا امير امومنين فكانما صدع قلبي وقلت اللهم خذ مني لعثمان حتى ترخی

ترجمہ: انہی میں تیری جناب میں خون عثمانؓ سے اپنی بریت کا اظہار کرتا ہوں ۔ تحقیق عثمانؓ کے قتل کے دن میرے ہوش اڑ گئے تھے اور میں نے اسے برا جانا اور میرے پاس لوگ بیعت کرنے آئے تو میں نے کہا خدا کی قسم مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی قوم سے بیعت لوں جس نے عثمانؓ کو قتل کیا اور ایسی حالت میں کہ عثمانؓ دفن بھی نہ ہوئے ہوں ۔ اس کے بعد لوگ چلے گئے پس جب وہ پھر لوٹ کر آئے اور پھر مجھ سے بیعت کا سوال کیا میں نے کہا الہی ! ابھی میں اس کام پر جرات کرنے سے ڈرتا ہوں ۔ پھر لوگ بضد ہو کر آئے تو میں نے بیعت لے لی ۔انہوں نے مجھے یا امیر المومنین کہا، انہوں نے کہا تو سہی مگر اس خطاب نے میرے دل کو چاک کر دیا اور میں نے کہا خدایا! کچھ بھی ہو تو عثمانؓ کو مجھ سے راضی کر دے ۔ (تاریخ الخلفاء سیوطی)

دیگر اصحاب کے اقوال
سیدنا انس بن مالک کا قول ہے کہ عثمان ذوالنورینؓ کی زندگی میں اللہ کی تلوار میان میں تھی ۔ لیکن آپ کی شہادت کے بعد میان سے ایسی نکلی کہ اب قیامت تک بر ہنہ ہی رہے گی۔

سید نا سمرہ کا قول ہے کہ اسلام حصن حصین میں تھا مگر قتل عثمانؓ سے اس میں ایسا رخنہ پڑ گیا کہ اب قیامت تک بند نہ ہو گا ۔ ان کے قتل سے خلافت مدینہ سے ایسی نکلی کہ اب واپس نہ آئے گی ۔ (تاریخ الخلفاء سیوطی)

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد فرشتوں نے میدان جنگ میں مسلمانوں کی اعانت ترک کر دی ۔ (تاریخ الخلفاء سیوطی)

قاسم بن امیہ نے آپ کی شہادت پر ایک ہی شعر میں مرثیہ کہہ دیا ہے
حمرى لبس الدخ ضحيهم . به … خلاف رسول الله يو اضاحيب
لوگو! خدا کی قسم تم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بعد قربانی کے دن میں بہت بڑی قربانی کی ہے۔

شہادت عثمانؓ پر نبی صلى الله عليه وسلم کے شاعر خاص سید نا کعب بن مالک کے اشعار بھی ہیں
يا قاتل الله قوما كان امرهم….. قتل الامام الزكي الطيب الرون
خدا اس قوم کو تباہ کرے جس نے پاک طیب برگزیدہ امام کو قتل کیا ۔

ما قتلوه على ذنب الم به…… الا الذي نطقو ادورا ولم يكن
وہ کسی گناہ کی آلودگی سے قتل نہیں کیا گیا بلکہ لوگوں نے ان کے خلاف خود جھوٹی باتیں بنائیں جن کی کوئی اصل نہ تھی ۔
( از : رحمتہ اللعالمین ، جلد دوم، حاشیہ ص ۱۰۱، بحوالہ نہج البلاغہ، چھا پر دارالسلطنت تبریز ، ۱۴۶۷ ہجری )

ملک الشعراء دربار نبی الله سید نا حسان بن ثابت فرماتے ہیں
من سره الموت صرفا لامزاج له….. فليات ماوية في دار عثمانؓ
جو خالص موت دیکھنے کا آرزومند ہو کہ اس میں کسی چیز کی آمیزش نہ ہو اس کو چاہیے کہ عثمانؓ کے گھر جائے ۔

ضحوا بالشمط عنوان السجود به ….. يقطع الليل تسبيحا وقرآناً
لوگوں نے اس شخص کو ذبح کر ڈالا جس کی پیشانی پر سجدہ کے نشان تھے اور تمام شب نماز اور تلاوت قرآن میں گزار دیا کرتا تھا۔

صبراند لكم امى وما ولدت….. قد ينفع الصبر في المكرده احياناً
مسلمانوں ! صبر کر وتم پر میری ماں اور بھائی فدا ہوں بیشک مصیبت کے وقت صبر نفع بخشتا ہے ۔

لتسمعن وشيكافى ديارهم…… الله اكبر باثالات عثماناً
تم ضرور ان کے شہروں میں تاخت و تاراج کی خبر سنو گے اور اللہ اکبر کے ساتھ انتقام کے نعرے سنو گے ۔ (اسد الغابہ ذکر عثمانؓ بن عفان)

امام الشبعی علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمانؓ کی شہادت پر کعب بن مالک کی نظم سے بہتر میں نے کسی کے اشعار نہیں سنے وہ فرماتے ہیں

فكف يديه تم اغلق بابه ….. وأيقن ان الله ليس بغافل وقال لاهل دار لا تقتلوهم…… عفا الله عن كل امره لم يقاتل فكيف رايت الله حسب عليهم….. العداوة والبغضاء بغد التواصل فكيف رايت الخير ادبر بعده ….. عن الناس ادبار الرياح الجوافل اس نے اپنا ہاتھ روک کر دروازہ بند کر لیا اور یقین کر لیا کہ خدا غافل نہیں ہے ۔

ترجمہ: انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا کہ دشمنوں کو قتل نہ کرو خد اس کو معاف کرے گا جو مسلمان کو قتل نہیں کرتا ۔
پھر تم نے دیکھ لیا کہ خدا نے ان پر کیسی مصیبت نازل کی یعنی با ہمی الفت کے بعد باہمی بغض و عداوت میں مبتلا ہو گئے ۔
تو نے دیکھ لیا کہ عثمانؓ کے بعد بھلائی لوگوں سے کیونکر پیٹھ پھیر کر چل دی گویا آندھی تھی کہ آئی اور نکل گئی ۔

حضرت سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے زریں اقوال

غم دنیا ایک تاریکی ہے اورغم آخرت دل میں ایک نور ہے۔

تارک دنیا خدا کا ، تارک گناہ فرشتوں کا اور تارک طمع مسلمانوں کا محبوب ہوتا ہے۔

چار چیزیں بیکار ہیں ۔ (۱) وہ علم جو بے عمل ہو ۔ (۲) وہ مال جو خرچ نہ کیا جائے ۔ (۳) وہ زہد جس سے دنیا حاصل کی جائے ۔ (۴) وہ لمبی عمر جس میں سامان آخرت کچھ تیار نہ کیا جائے ۔

مجھے دنیا میں تین باتیں پسند ہیں ۔ (۱) بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ (۲) نگوں کو کپڑا پہنا نا ۔ (۳) قرآن مجید خود پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا۔

بظاہر چار باتوں میں ایک خوبی ہے مگر حقیقت میں چاروں کہ تہہ چار ضروری امر بھی ہیں ۔ (۱) نیکوکاروں سے ملنا ایک خوبی ہے مگر ان کی اتباع کرنا ایک ضروری امر ہے ۔ (۲) تلاوت قرآن مجید ایک خوبی ہے مگر اس پر عمل کرنا ضروری امر ہے ۔ (۳) مریض کی عیادت ایک خوبی ہے مگر اس کی وصیت کرانا ایک ضروری امر ہے ۔ (۴) زیارت قبور ایک خوبی ہے مگر وہاں کی تیاری کرنا ایک ضروری امر ہے۔

مجھے چار باتوں میں عبادت الہی کا مزہ آتا ہے۔ (۱) فرائض کی ادائیگی میں ۔ (۲) حرام اشیاء سے پر ہیز کرنے میں ۔ (۳) امید اجر پرنیک کام کرنے میں ۔ (۴) اور خوف خدا سے برائیوں سے بچنے میں ۔

متقی کی پانچ علامات ہیں۔ (۱) ایسے شخص کی صحبت میں رہنا جس سے دین کی اصلاح ہو ۔(۲) شرمگاہ اور زبان کو قابو میں رکھنا۔ (۳) مسرت دنیا کو وبال خیال کرنا ۔ (۴) شبہات کے خوف سے حلال سے بھی پر ہیز کرنا۔ (۵) پس ایک میں ہی ہلاکت میں پڑا ہوں ۔

یہ چیزیں بریکار ہیں ۔ (۱) وہ عالم جس سے کوئی سوال نہ کرے۔ (۲) وہ عمدہ عقل جس سے کچھ حاصل نہ کیا جائے ۔ (۳) بریکار اور مستعمل ہتھیار۔ (۴) ویران مسجد ۔ (۵) وہ قرآن جس پر تلاوت نہ کی جائے ۔ (۶) وہ مال جو خرچ نہ کیا جائے ۔ ( ۷ ) وہ گھوڑا جس پر سواری نہ کی جائے ۔ (۸) علم و زہد جو طالب دنیا کے پیٹ میں ہے۔ (۹) وہ عمر دراز جس میں تو شہ آخرت تیار نہ کیا جائے ۔ (منہمات ابن حجرعسقلانی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button