وزیر اعظم عمران خان ملائشیا میں ہونے والی کوالالمپور سمٹ 2019 میں شرکت کریں گے

اگر وزیر اعظم پاکستان نے سعودی عرب کی خواھش پر ملائشیا میں منعقد سربراھی اجلاس میں شرکت نہ کی تو یہ پاکستان کی سنگین غلطی تصور ھو گی، ملائشیا اور ترکی دراصل پاکستان ترکی، قطر، ملائشیا ،انڈونیشیا، ایران، بنگلہ دیش، سوڈان، نائجیریا، مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، عراق، شام، اور دیگر اسلامی ممالک کا سیاسی و اقتصادی بلاک بنانا چاھتے ھیں، چونکہ سعودی عرب، عرب امارات برائے راست اسرائیلی اور امریکی مفادات کے تحت چلتے ھیں اس بنیاد پر باقی ساری امت کو ان سے اختلاف چلا آ رہا ھے، ملائشیا اور ترکی نے کھل کر کشمیر مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دیا، اور دونوں ممالک کے سربراھان نے بھارت کے مجوزہ دورے بھی منسوخ لیے، اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی کھل کر تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کی، جبکہ سعودی عرب نے نہ صرف بھارت کا ساتھ دیا بلکہ بھارت کیساتھ تاریخی اقتصادی معائدے کیے اور مودی کو ایوارڈ سے نوازا، اس نازک موقع پر وزیراعظم کو سعودی دباؤ میں آنے کے بجائے ملک اور امت کے وسیع مفاد میں ھر صورت کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنی چاھئے، جو پہلے سے طے شدہ ھے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ تاریخی غلطی ھو گی،

Prime Minister Imran Khan Should participate in the Kuala Lumpur Summit 2019 in Malaysia
If the Prime Minister did not attend the summit in Malaysia on the wishes of Saudi Arabia, it would be a serious mistake for Pakistan, Malaysia and Turkey are actually Pakistan Turkey, Qatar, Malaysia, Indonesia, Iran, Bangladesh, Sudan, Nigeria. , Morocco, Tunisia, Algeria, Libya, Iraq, Syria, and other Islamic countries, as Saudi Arabia, the United Arab Emirates directly operate under Israeli and American interests, on the basis of which the rest of the Ummah is united by them. Disagreement over, Malaysia and Turkey openly cooperate with Pakistan on Kashmir issue, and both countries Its leaders also canceled the proposed visit to India, and openly supported the Security Council meeting, while Saudi Arabia not only supported India but also signed historic economic agreements with India and awarded Modi the award. Instead of coming under pressure from the Saudi on this critical occasion, the Prime Minister should attend the Kuala Lumpur Conference in the best interest of the country and the Ummah, which is a default, if not done, it would be a historic mistake۔۔

admin

Read Previous

روس میں انسانی چہرے والے بھیڑ نے دیہاتیوں کو خوف زدہ کردیا

Read Next

اسلامی ملک پاکستان میں عریانی و فحاشی پھیلانے کا کون زمہ دار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *