الوارث نام کا مطلب
الوارث نام کا مطلب ہے سب کے بعد موجود رہنے والا
الوارث نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
وَرِثَ یَرِثُ وَرْثًا وَارِثًا، واِرْثَۃً، وَرِثَۃً وِرَاثَۃً، وتُراثًا.
وِرث: کسی ایک کے پاس دوسرے کی چیز کا اس کی موت کے بعد منتقل ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے وارث کا اطلاق اس لیے ہے کہ ہر ایک سلطنت کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی لاوارث کی کوئی جائیداد رہ جاتی ہے تو اس کی ملکیت سلطنت کی طرف منتقل ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں جبکہ کوئی قوم ساری کی ساری تباہ کر دی گئی ہو، تو اس کی وراثت سلطنت الٰہیہ کی طرف منتقل ہوگی اور جب کل عالم کے عارضی مالک اپنی اپنی ملکیتوں کو چھوڑ کر خاک فنا میں سو رہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ رب العالمین ہی کو ان کی وراثت حاصل ہوگی۔
لفظ کا اطلاق عرف عام میں ہے ورنہ رب العالمین ہی خود مالک الملک ہے جو لوگ ملکیتوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں در حقیقت یہ وہ غلام ہیں جو آقائے حقیقی کے لطف سے انتفاع عارضی کی بہاریں لوٹ رہے ہیں ۔
سورہ قصص: ۵۸ میں ہے کہ بہت ایسی متکبر قومیں گزری ہیں جن کو اللہ پاک نے تباہ کر دیا۔
﴿وَ کُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ﴾ (القصص: ۵۸)
’’اور ہم ہی ان کے وارث بنے۔‘‘
سورہ حجر میں ہے:
﴿وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ﴾ (الحجر: ۲۳)
’’ہم ہی زندہ کرتے ہیں ، ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی وارثِ املاک ہیں ۔‘‘
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قصص و حجر میں دو ہی مقام پر اپنی ذات کے متعلق یہ لفظ یاد کیا گیا ہے اور دونوں ہی مقام پر ﴿نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ﴾ ﴿نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ﴾ بصیغہ جمع فرمایا گیا ہے۔ اسی کی وجہ یہی ہے کہ شہنشاہی زبان میں تکلم فرمایا گیا ہے۔ الوہیت واحدیت اور صمدیت کی زبان میں واحد صیغہ کا اور شہنشاہی زبان میں صیغہ جمع کا استعمال ہوا کرتا ہے۔
لفظ وراثت میں مال و اسباب مردہ کی سنبھال بھی داخل ہے اور علم المیراث کے حصص کی تقسیم جو ۳؍۱۔ ۳؍۲۔ ۶؍۱ یا ۴؍۱۔ ۲؍۱۔ ۴؍۴۔ ۸؍۱ [1]پر رکھی گئی ہے۔ وہ اسی وراثت کے متعلق ہے۔
لفظ وراثت میں منصب روحانی کی جانشینی بھی داخل ہے۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَوَرِتَ سُلَیْمَانَ دَاوٗدَ﴾ یعنی داؤد علیہ السلام وارث سلیمان علیہ السلام ہوا۔ بائبل سے ثابت ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام ۳۶ پسران و دختران کے مالک تھے۔ ان میں سے ۳۵ کو وارث نہ بنانا اور صرف ایک کا نام بطور وارث لیا جانا بتلاتا ہے کہ یہاں وراثت کے معنی منصب روحانی یعنی نبوت ہے۔ چنانچہ داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سے نبوت صرف سلیمان علیہ السلام ہی کو ملی تھی۔
زکریا علیہ السلام کی دعاء عطائے فرزند بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔
﴿یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ﴾ (مریم: ۶)
’’الٰہی! ایسا بیٹا دے جو میرا وارث ہو اور آلِ یعقوب علیہ السلام کا وارث ہو۔‘‘یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کی آل کے لوگ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے۔ زکریا علیہ السلام کا بیٹا واحد وارث ان لاکھوں اشخاص کی املاک کا نہ بن سکتا تھا اور ان لاکھوں کی صلبی اولاد کو محروم الارث نہ کرسکتا تھا۔ لہٰذا یہاں بھی نبوت ہی کی درخواست کی گئی جو آل یعقوب کا سرمایہ خاص تھا۔ یعقوب علیہ السلام نے بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر یہی فرمائی تھی۔﴿وَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَ عَلٰٓی اٰلِ یَعْقُوْبَ کَمَآ اَتَمَّہَا عَلٰٓی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰہِیْمَ وَ اِسْحٰقَ﴾ (یوسف: ۶)’’اور (تیرا رب) اپنی نعمت تجھے بھر پور عطا فرمائے گا، اور یعقوب کے گھرانے کو بھی، جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم و اسحق کو بھی بھر پور نعمت دی۔‘‘یہ نعمت نبوت ہی تھی جو صرف حضرت یوسف علیہ السلام کو ہی ملی۔ باقی گیارہ فرزند اس سے محروم رہے۔
AL-WARIS MEANING IN ENGLISH
The Heir, The Inheritor of All, The One whose Existence remains