العظیم نام کا مطلب
العظیم نام کا مطلب ہے بہت عظمت والا
العظیم نام کے فائدے
اس اسم کے بکثرت ورد کرنے والے کو انشااللہ تعالی عزت و عظمت حاصل ہوگی
العظیم نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
عظمت والا۔ اہل دنیا کی زبان میں لفظِ عظمت کا اطلاق طول، عرض و عمق پر ہوتا ہے اور جب ابعادِ ثلثہ میں ایک شے کی بڑائی دوسری پر بیان کرنی ہو تب لفظ عظمت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
وَ لَہَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ (النمل: ۲۳)
’’یعنی ملکہ سبا کا تخت لمبائی چوڑائی، اونچائی میں بہت بڑا تھا۔‘‘
فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ (الشعراء: ۶۳)
’’سمندر کے پانی کا ہر ایک ٹکڑا بڑے پہاڑ جیسا بن گیا تھا۔‘‘
اس کے بعد معقولات و مجردات میں بھی لفظ عظمت کا استعمال ہوتا ہے۔
ہٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ(النور: ۱۶)
’’یہ بہتان بہت بڑا ہے۔‘‘
اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا (بنی اسرائیل: ۴۰)
’’تم بہت بڑی بات کہتے ہو۔‘‘
اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَ اَجْرًا عَظِیْمًا (الاحزاب: ۳۵)
’’اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘
وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا (النساء: ۱۱۳)
اللہ کا فضل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ عظیم ہے، کیونکہ اسے عظمتِ ذاتی حاصل ہے۔ وہ الوہیت کے مرتبہ بزرگ کا مالک ہے۔
مادیات کی بڑائی کو دل سے نکال دینا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ (الواقعۃ: ۸۴، ۹۶)
’’اپنے رب کی جو عظمت والا ہے کے نام کی تسبیح کرو۔‘‘
اس کی تعمیل میں رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھا جاتا ہے۔ سنن ابو داود کی حدیث میں ہے، جس نے تین بار یہ پڑھ لیا فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہٗ وَ ذٰلِکَ اَدْنَاہُ اس کا رکوع پورا ہو گیا اور یہ تین بار کہنا ادنیٰ شمار ہے۔ زیادہ سے زیادہ فرض میں کتنا پڑھنا چاہیے اس کی بابت وضاحت کے ساتھ کوئی حکم نہیں ملتا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک بار عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور ان کے رکوع و سجود کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ تر بتلایا تھا۔ راوی کا بیان ہے، کہ اس نماز میں دس دس بار تسبیح ہم کہہ لیا کرتے تھے۔
AL-AZEEM MEANING IN ENGLISH
The Magnificent, The Infinite, The One deserving the attributes of Exaltment, Glory, Extolement, and Purity from all imperfection