Sahabiyat

ام المومنين حضرت سیدہ خديجة بنت خويلد رضي الله عنها

Hazrat Khadijah bint Khuwaylid (R.A) the mother of the believers

حضرت خدیجہ ؓ کا نام اور نسب
حضرت خدیجہ بنت خویلد ؓ نام  اور کنیت ام ہند اور طاہرہ لقب اور سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد ؓ بن اسد بن عبد العزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور لوی بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔ وہ مومنوں کی ماں ہیں، پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں اور ان کے بچوں کی ماں ہیں، وہ سب سے پہلے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں  جب خدا نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی وحی نازل کی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جنہوں نے انہیں بشارت دی کہ وہ امت کے نبی ہیں۔
حضرت خدیجہ بنت خویلد ؓ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جو ان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل خدیجہ ؓ پیدا ہوئیں، سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

حضرت خدیجہ ؓ کی پیدائش اور پرورش
حضرت خدیجہ ؓ 556ء میں مکہ، سعودی عرب میں پیدا ہوئیں، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پندرہ سال بڑی تھیں۔  وہ قریش کے رئیسوں میں سے تھی۔ ان کی دولت اور ان کے باپ دادا کی دولت عربوں میں مشہور تھی اور وہ ہر سال تجارت کے لیے اپنے تاجروں کو شام بھیجتی تھیں۔ وہ اپنے مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان میں سے جس کو بھی چنتی تھی اس کے بارے میں بہت محتاط رہتی تھیں۔ انہوں نے تجربہ کار لوگوں کا انتخاب کیا جو اپنے کام میں مخلص تھے اور اپنی دیانتداری، ایمانداری اور عفت کے لیے مشہور تھے۔

انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔  جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ وہ بہت امیر اور بااثر خاتون تھیں جو کئی امرا کی جانب سے شادی کی پیشکش ٹھکرا چکی تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد حضرت خدیجہ ؓ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں۔

نکاح
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔
ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ ؓ کے والد اور شوہر لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔

تجارت
باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ ؓکو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھا جس کا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک دفعہ مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نےحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہا کہ تم کو حضرت خدیجہ ؓ سے جا کر ملنا چاہیے، ان کا مال شام جائے گا۔ بہتر ہے کہ تم بھی ساتھ چلے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہرت "امین” کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپ کے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، خدیجہ ؓ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فوراً پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لے کر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس سے زیادہ دوں گی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے قبول فرما لیا اور مالِ تجارت لے کر میسرہ (غلام خدیجہ ؓ) کے ہمراہ شام تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے زیادہ تھا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح
حضرت خدیجہ ؓ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ ؓ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے منظور فرمایا، اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ ؓ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بنا پر حضرت خدیجہ ؓ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔

تاریخ معین پر ابو طالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حمزہ ؓ بن عبد المطلب بھی تھے، حضرت خدیجہ ؓ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ ؓ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمرو بن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ ؓ حرم نبوت ہو کر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔

حضرت خدیجہ ؓ کی اولاد
حضرت خدیجہ ؓ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو ان کے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جن کے نام ہالہ و ہند تھے۔
دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اس کا نام بھی ہند تھا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں نام حسب ذیل ہیں:

قاسم بن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں پر چلنے لگے تھے۔
زینب بنت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی ابو العاص بن الربیع سے شادی کی اور علی اور امامہ کو جنم دیا، انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔ مدینہ میں اور ہجرت کے آٹھویں سال وفات پائی۔
عبد اللہ بن محمد
آپ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے۔
رقیہ ؓ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
عثمان بن عفان ؓ نے ان سے شادی کی، اور وہ اس کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں، ان کا انتقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت کے سترہ ماہ بعد رمضان کے مہینے میں ہوا۔
ام کلثوم ؓ بنت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ام کلثوم ؓ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب ان کی والدہ محترمہ خدیجہ ؓ نے اسلام قبول کیا، انہوں نے اپنی بہن رقیہ ؓ کی وفات کے بعد ہجرت کے تیسرے سال عثمان بن عفان ؓ سے شادی کی۔ عثمان ؓ سے ان کی اولاد نہیں تھی اور ہجرت کے نویں سال شعبان کے مہینے میں ان کا انتقال ہوا۔
حضرت فاطمہ ؓ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹیوں میں سب سے چھوٹی ہیں – صحیح اقوال کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ام کلثوم ؓ سب سے چھوٹی ہیں، حضرت فاطمہ ؓ کی شادی حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے ہوئی تھی۔

اسلام کی ابتداء
پندرہ برس کے بعد جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے خدیجہ ؓ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا،
صحیح بخاری باب بدۤ الوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لے کر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ختم ہو جاتا تو پھر خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایک دن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے خدیجہ ؓ سے کہا مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، انہوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر خدیجہ ؓ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا "مجھ کو ڈر ہے” خدیجہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پریشان نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ ؓ نے کہا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری ضرور مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی۔
اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے خدیجہ ؓ بھی آپ کے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ ؓ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کرتے۔
عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے اور عباس بن عبد المطلب کے گھر میں ٹھہرے، صبح کے وقت ایک دن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اس کے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے عباس سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، عباس نے جواب دیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ؓ ہے اور یہ محمد کی بیوی (خدیجہ ؓ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اس کا مذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اس کے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھ کو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں۔
عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، روایت کی حیثیت سے اس کے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اس کو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔
خدیجہ ؓ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے اس میں بڑی حد تک خدیجہ ؓ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپر گزر چکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ مجھ کو ڈر ہے تو انہوں نے کہا، آپ پریشان نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔ دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو حضرت خدیجہ ؓ نے آپ کو تسلی اور تشفی دی۔
استیعاب میں ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپ کے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں۔
سنہ 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، خدیجہ ؓ بھی ساتھ آئیں،
سیرت ابن ہشام میں ہے۔
اور وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں۔ تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ درخت کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حضرت خدیجہ ؓ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو خدیجہ ؓ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ ؓ کے پاس بھیجے، راستے میں ابو جہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابو البختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اس کو رحم آیا، ابو جہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہےتو کیوں روکتا ہے۔

فضائل و مناقب
ام المومنین طاہرہ ؓ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپ کی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرۃ العرب آپ کی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ ؓ کے قلب سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا۔
مسند احمد میں روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ ؓ سے فرمایا، بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کروں گا، انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیے، عزی کو جانے دیجیے، یعنی ان کا ذکر نہ کیجیے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اسلام کو ان کی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت نبوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے،
ابن ہشام میں ہے۔ وہ اسلام کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں،
چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ ؓ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ ان کو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زید بن حارثہ ؓ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، خدیجہ ؓ نے ان کو آزاد کرایا اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے غلام تھے۔
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی خدیجہ ؓ سے بے پناہ محبت تھی آپ نے ان کی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد آپ کا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ گو میں نے خدیجہ ؓ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھ کو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ان کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رنجیدہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے مجھ کو ان کی محبت دی ہے،
خدیجہ ؓ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں،
صحیح بخاری و مسلم میں ہے: عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ؓ ہیں۔ ایک مرتبہ جبریل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ ؓ آئیں تو فرمایا، ان کو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شور و غل اور محنت و مشقت نہ ہو گی۔


اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون

لوگوں میں سے سب سے پہلے جو ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق
جنت کی بہترین عورتیں۔
خدیجہ رضی اللہ عنہا جنت کی عورتوں میں سب سے بہتر ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا: جنت کی بہترین عورتوں میں سے مریم بنت عمران ہیں، اور دنیا کی بہترین عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ؓ ہیں،  اور وہ ان چار عورتوں میں سے ایک ہیں: مریم بنت عمران، فاطمہ ؓ بنت محمد، آسیہ، فرعون کی بیوی، اور خدیجہ بنت خویلد ؓ ۔

ان پر خدا کی سلامتی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کے زریعے ان کے پاس سلامتی بھیجی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ انہیں جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیں جس میں کوئی شور و غل نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ان کی موجودگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا ۔

خدیجہ بنت خویلد ؓ کی وفات
حضرت خدیجہ ؓنکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی (ہجرت سے تین سال قبل) انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی تھی کیونکہ اس وقت نماز جنازہ سمیت پانچ وقت کی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ بالکل اسی طرح رمضان کا مہینہ ہونے کے باوجود کوئی فرد روزے سے بھی نہ تھا کیونکہ اس وقت روزے بھی فرض نہیں ہوئے تھے۔ اسی سال حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے محبوب چچا جناب ابو طالب کی بھی رحلت ہوئی تھی۔ ان دوصدموں نے آپ کو بہت غمگین کردیا ۔اسی لیے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہ ؓ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی تھی جب حضرت ابو طالب کی وفات ہوئی۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ ؓ کی قبر حجون میں ہے۔ اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا کرتے تھے کیونکہ ان کے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے نا امید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button