نعتیں

دل کہتا ہے اک نعت کہوں

ایک نعت کہوں, اک نعت کہوں
سیرت کی میں کوئی بات کہوں

دل کہتا ہے اک نعت کہوں
سیرت کی میں کوئی بات کہوں

نبیوں کا جو تاج فخر ہے
اس عظمت کو یوں سلام کہوں

دل کہتا ہے اک نعت کہوں
سیرت کی میں کوئی بات کہوں

الفاظ کی آب و تاب ہے
وہ جو خوشبو کا گلاب ہے

کردار نمایاں جن سے
انہیں عظمت کا مینار کہوں

خلاق سنوارے ایسے
جنت کی ہو خوشبو جیسے

تعظیم ہے جن سے سیکھی
اس عظمت کو یوں بیان کروں

ہے جو پیکر صدق و امانتہ
کل کفر کے تھے جو احانہ

مرعوب ہر اک ظالم تھا
وہ روب بیاں سر عام کروں

شفقت تھی نرالی جن کی
وہ تھی ذات مثالی جن کی

وہ حقیقت رازو وفا تھے
ان پر درود و سلام کہوں

دل کہتا ہے اک نعت کہوں
سیرت کی میں کوئی بات کہوں

محمد صلی اللہ علی حبیبہ محمد وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button