حمد

دل پکارے اللہ ھُو دل پکارے اللہ ھُو

دل پکارے اللہ ھُو دل پکارے اللہ ھُو
اس جہانِ رنگ و بو میں جلوے اسکے چار سُو

خالق و مالک وہی ہے اول و آخر وہی
سب کے دل میں وہ مکیں ہے سب کو اسکی جستجو

وہ عیاں ہر چیز سے ہے اور پردوں میں نہاں
جس کے جلوے دیکھنے کی انبیاء کو آرزو

آگ میں گر کر کوئی اسکی ثنا خوانی کرے
طور پہ جا کے کوئی اس سے ہے محوِ گفتگو

کوئی اسکی راہ میں بیٹا ذبح کرنے کو تیار
کربلا میں گھر لٹا کے کوئی اس سے سرخرو

احمدِ مرسل میں اسکی ذات ہے جلوہ نما
جس نے دیکھا کملی والا اسکو دیکھا ہُو بہ ہُو

محبوؔب رب کے ساتھ چرچے احمدِ مختار کے
نگری نگری قریہ قریہ کوچہ کوچہ کُو بہ کُو

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button