اللہاللہ کے نام

26- السمیع

As-Sami

السمیع نام کا مطلب
السمیع نام کا مطلب ہے خوب سننے والا

السمیع نام کے فائدے
جوشخص جمعرات کے دن چاشت کی نماز پڑھنے کے بعد پانچ سو یا ایک سو پچاس مرتبہ یہ اسم پڑھے گا توانشااللہ تعالی اس کی دُعایں قبول ہوں گی۔

السمیع نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
اللہ تعالیٰ کے نہایت مشہور اسمائے حسنیٰ سے ہے۔
سَمِیْع وہی ہے، جو جملہ مسموعات کا سننے والا ہے۔
سَمِیْع وہی ہے، جو اصوات کا سننے والا ہے۔
سَمِیْع وہی ہے، جو جملہ اقوال و الفاظ اور کلمات و عبارات کا سننے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْٓ اِِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا (المجادلۃ: ۱)
’’اللہ نے سن لی بات اس عورت کی جو تجھ سے اپنے شوہر کی بابت جھگڑتی اور اللہ کی طرف نظریں اٹھاتی تھی۔ اللہ تو تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘
اس آیت میں الفاظ اور کلمات کی سماعت کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآئُ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا (آل عمران: ۱۸۱)
’’اللہ نے ان لوگوں کی بات سنی جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے۔‘‘
اس آیت میں بھی قول اور الفاظ کی سماعت موجود ہے۔ ہاں اللہ وہی ہے، جو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ آل عمران: ۳۸ میں ہے ﴿اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَائِ﴾ سورہ ابراہیم ۳۹ میں ہے: اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَائِ
قرآن مجید میں اسی اسم کا استعمال مندرجہ ذیل صورتوں میں ہوا ہے۔
چودہ مقامات پر عَلِیْمٌ کے ساتھ۔ یعنی سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اور اَلسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کی صورت میں اور پانچ مقامات پر اسم بَصِیْرٌ کے ساتھ اور ایک مقام ﴿اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ﴾ کے طور پر واقع ہوا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے، کہ سَمِیْعٌ بمعنی عَلِیْمٌ یا بمعنی بَصِیْرٌ نہیں ہے بلکہ ہر ایک اسم مستقل ہے اور اپنی خصوصیات کو جداگانہ لیے ہوئے ہے۔
بے شک یہ ضروری تھا کہ قرآنِ پاک ایسے اسماء کے استعمال کے ساتھ ساتھ شائبہ تشبیہ نہ پیدا ہونے دے۔ لہٰذا بندہ کی سماعت کی حقیقت اس طرح پر ظاہر فرما دی۔
ہُوَ الَّذِیْ اَنشَاَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ(المومنون: ۷۸)
’’تمہاری سمع و بصر اسی کی پیدا کردہ ہیں ۔‘‘
اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ (یونس: ۳۱)
’’تمہاری سمع و ابصار کا مالک بھی وہی ہے۔‘‘
لہٰذا بندہ کی سماعت کو اللہ تعالیٰ کی صفت سماعت سے کوئی نسبت باہمی نہیں ۔ ہاں سمیع وہی ہے، جو چرند پرند و حوش و درندہ کی بھی سنتا ہے۔ سمیع وہی ہے، کہ کروڑوں اصوات، ہزاروں لاکھوں لغات اور لاتعداد معروضات اس کی سماعت میں خلل انداز نہیں ہو سکتے۔ وہ بے زبانوں کی بھی سنتا ہے اور سب بندوں کی ضروریات کو بھی نافذ (پورا) فرماتا ہے۔


AS-SAMI MEANING IN ENGLISH
The All Hearing, The One who Hears all things that are heard by His Eternal Hearing without an ear, instrument or organ

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button