اللہ کے نام

52- الوکیل

Al-Wakeel

الوکیل نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
وَکْل سے ہے۔ وَکْلَۃ الدّابۃ جانور تھک کر چلنے سے رہ گیا۔
وَکْل وہ انسان جو اپنا کام خود سر انجام دینے سے عاجز ہو۔
وکالت اپنا کام دوسرے کے سپرد کرنا۔
وَکِیْل بروزن فَعِیْل ہے۔ اس وزن کے الفاظ بمعنی مفعول بھی آتے ہیں اور بمعنی فاعل بھی۔
جب انسان کسی دوسرے پر اعتماد وثوق کرتا ہے۔ تب اسے وکیل کہتے ہیں ۔ یعنی مَوْکُوْل اللّٰہ۔
اللہ تعالیٰ کا نام بمعنی فاعل ہے۔ جس سے مراد حافظ ہے۔ ﴿حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل﴾ میں یہی معنی ملحوظ ہیں ۔
اللہ تعالیٰ وکیل ہے، کہ جملہ امور میں درستی و اصلاح اسی سے ملتی ہے۔
اللہ تعالیٰ وکیل ہے، کہ نظام عالم کا اعتماد اسی کی ذات مقدس پر ہے۔
اللہ تعالیٰ وکیل ہے، کہ عاجز نوازی، بندہ پروری اسی کی شان ہے۔
موجودات کے جملہ امور کا سر انجام اسی کے قبضہ میں ہے۔ زمامِ اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ رب العزت کے کلام کو سنو۔ اپنے نبی محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وکالت کی نفی فرماتا۔
﴿وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ وَکِیْلًا﴾ (بنی اسرائیل: ۵۴)
’’ہم نے تجھے ان پر داروغہ نہیں بھیجا۔‘‘
ارشاد فرماتا ہے اور پھر اپنی ذات کے لیے اس وکالت کا اثبات فرماتا ہے۔
﴿وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا﴾ (بنی اسرائیل: ۶۵)
’’اور کافی ہے پروردگار تیرا کارساز۔‘‘
اللہ پر اعتماد کرنے والے بھی وہ ہیں جو ایمان میں ترقیات حاصل کرتے ہیں ۔ انعام پاتے، نقصان سے بچتے رہتے۔ فضل عظیم کے مستحق بنتے اور رضوانِ ربانی سے شاد کام ہوتے ہیں ۔
واضح ہو کہ توکل بھی اسی مادہ و کل (و۔ ک۔ ل) سے بنا ہے۔
قرآن و اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مقامات پر توکل اور اہل توکل کی مدح فرمائی۔ توکل کی تحریص فرمائی ہے۔
۱۔ سورہ یونس میں ہے:
﴿فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ﴾ (یونس: ۸۴)
‘‘تب اسی پر اعتماد کرو اگر تم مسلم ہو۔‘‘
دیکھو توکل کو شرط اسلام ظاہر فرمایا۔
۲۔ سورہ ملک میں ہے:
﴿اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا﴾ (الملک: ۲۹)
’’ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا۔‘‘
یہاں توکل کو ایمان کے ساتھ بیان فرمایا۔
۳۔ نوح علیہ السلام سے جب ساری قوم پھر جاتی ہے اور ان کی مخالفت و عداوت کا اظہار کرتی ہے تو وہ فرماتے ہیں :
﴿فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ﴾ (یونس: ۷۱)
’’میرا تو اللہ پر اعتماد ہے۔ تم اپنی سب تدبیریں کرلو۔‘‘
۴۔ یعقوب علیہ السلام جب بنیامین کو مصر بھیجنے لگے تب ان کے بھائیوں سے میثاق حفاظت لیا
اور اس میثاق کے بعد فرما دیا۔
﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ عَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ﴾ (یوسف: ۶۷)
’’حکم تو اللہ کا ہے۔ دوسرے کا نہیں ۔ میرا اسی پر اعتماد ہے اور متوکل لوگوں کو بھی اسی پر اعتماد کرنا چاہیے۔‘‘
۵۔ سورہ نمل کو دیکھو۔ اللہ تعالیٰ اہل کتاب پر حجت ختم فرماتا ہے۔ قرآن مجید کا ہدایت و رحمت ہونا اور پھر اہل کتاب کے مختلف فیہ مسائل کا فیصلہ اپنے حکم سے ظاہر کرکے ارشاد فرماتا ہے۔
﴿فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ﴾ (النمل: ۷۹)
’’اللہ پر اعتماد کرو بے شک تو کھلم کھلا حق پر ہے۔‘‘
صحیحین میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں پڑھا کرتے تھے:
((أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ۔ أَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِعِزَّتِکَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِيْ ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ وَالْجِنُّ وَالْاِنْسُ یَمُوْتُوْنَ۔))
’’یا اللہ میں تیرے سامنے سر جھکاتا ہوں ، تجھ پر اعتماد کرتا ہوں ، تجھ پر ایمان لاتا ہوں ، تیری ہی جانب رجوع کرتا ہوں ، تیری ہی مدد سے جھگڑتا ہوں ۔ یا اللہ! تیری عزت کی پناہ ڈھونڈتا ہوں ۔ تیرے سوا تو کوئی معبود نہیں ۔ مجھے گمراہی سے بچا۔ تو ہی زندہ ہے، جسے موت نہیں جن اور انسان تو مریں گے۔‘‘
توکل:
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعۃً فرماتے ہیں ’’کہ توکل تو عمل قلب ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ توکل اعضا یا زبان کا کام نہیں اور اس کا شمار مدرکات و معلومات میں بھی نہیں بلکہ صرف دل سے ہے۔‘‘
سہل تستری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’توکل کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سامنے خود کو مردہ وار بنالے۔‘‘
ابن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ ’’توکل یہ ہے کہ تیرے دل میں اسباب کی جانب میلان نہ پایا جائے خواہ اسباب کی ضرورت کتنی ہی ہو۔‘‘
واضح ہو کہ بزرگانِ سلف کے اس بارہ میں اقوال مختلف ہیں ۔ بعض نے ترک اسباب کا نام توکل رکھا اور بعض نے ترک اعتماد بر اسباب کا نام توکل بتایا۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اعلیٰ مرتبہ یہی ہے کہ اسباب کو ترک نہ کرے مگر اسباب پر اعتماد کو کلیۃً ترک کر دے۔
واضح ہو کہ توکل کی ابتداء صفات ربوبیت، قدرت، کفایت اور قیومیت کے عرفان سے ہوتی ہے اور توکل کی انتہاء علم الٰہی اور مشیت نامتناہی کی معرفت سے حاصل کی جاتی ہے۔ جس توکل کو ان مقامت سے حاصل نہیں کیا گیا۔ وہ گمراہ لوگوں کا توکل ہے۔ یاد رکھو کہ توکل کا برترین درجہ توحید پر منحصر ہے اور توکل کی حقیقت قلب کو جملہ علائق سے علیحدہ کرکے توحید پر جم جانا ہے۔
اسباب کا تعلق جوارح کے ساتھ لگا رہے گا، مگر اسباب کا تعلق قلب سے ذرا بھی نہ ہوگا۔ توحید قلب سے توکل ملتا ہے تو توکل سے توحید حاصل ہوتی ہے۔
موحد کی ہی شان ہے کہ جس کے منہ سے نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ الْوَکِیْل زیبا ہے۔


AL-WAKEEL MEANING IN ENGLISH
The Trustee, The Dependable, The One who gives the satisfaction and is relied upon

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button