اللہ کے نام

13- المصور

Al-Musawwir

المصور نام کا مطلب
المصور نام کا مطلب ہے صورتیں بنانے والا

المصور نام کے فائدے
بانجھ عورت اگر سات روزے رکھے اور پانی سے افطار کرکے روزانہ اکیس مرتبہ اَلْمُصَوِّرُپڑھے تو انشااللہ تعالی اولاد نصیب ہوگی

المصور نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
صورت بنانے والا۔ فرمایا
یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ (آل عمران: ۶)
’’ماں کے شکم میں بچہ بنانے والا، جیسی صورت کہ اس نے چاہی۔ گورا، کالا، سالم، ناقص، مرد، عورت وغیرہ وغیرہ۔ سعدی رحمہ اللہ نے خوب ترجمہ کیا ہے
دہد نطفہ را صورت چوں پری
کہ کرداست برآب صورت گری
دنیا میں جو انسان مصور کہلاتے ہیں ، وہ صورت بنانے والے نہیں ہوتے بلکہ صورت کی نقل اتارنے والے ہوتے ہیں ۔ پھر وہ نقل بھی اصل سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ اگر انسان و حیوان یا شجر و حجر کا سایہ نمودار ہو جاتا ہے، تو سورج یا چراغ کی فضیلت کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ ’مصور‘ ہے اور اس نے کروڑوں ، اربوں کھربوں صورتیں بنائی ہیں ۔ بایں ہمہ ہر ایک صورت دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ اس تفریق کو اوّل جنس میں پھر نوع میں ، پھر صنف میں پھر افراد میں دیکھو کہ یہ تمام سلسلہ عجائب در عجائب امور پر مشتمل ہو گا۔
عالمِ جمادات کو لو، پتھر ایک جنس ہے اور اس کی قسم میں ہزاروں اقسام سینکڑوں رنگ ہیں ۔ ان کے ہزاروں خواص ہیں ۔ ریتلی پتھری سے لے کر یاقوت، الماس، نیلم تک غور کرتے چلے جاؤ۔ یہ ایک ناپید اکنار سلسلہ ہے۔ کوئلہ، نمک، مٹی کا تیل، ہزاروں معدنیات ہیں ۔
عالمِ نباتات کو لو، زمین پر پھیل جانے والی بوٹیاں ، چھت پر چڑھ جانے والی بیلیں ، زمین سے اوپر اٹھی ہوئی بوٹیا، پودے، درخت کروڑوں اقسام کے ملیں گے۔ کوئی صرف سایہ دیتا ہے، کوئی پھل اور سایہ دونوں ۔ کوئی عمارت کے کام میں بھی آتا ہے۔ ہر ایک کا پتہ، پھل، پھول، رنگت وغیرہ تاثیر بالکل الگ الگ ہے۔ تاثیرات کے لحاظ سے جڑ میں اثر اور ہے۔ پتہ میں اور، اوپر کے حصے کی خاصیت اور ہے۔ اندر کے گودے کی اور میوہ میں خاصیت جدا اور بیج جدا۔
عطر، گوند، عرق بھی ان ہی بوٹیوں سے حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ ایسا جنگل ہے جس کی پوری سیر کوئی نہیں کر سکا۔
پھر عالمِ انسان کو لو، وہ سب تفاوت جو حیوانات میں تھی، ملک ملک کے باشندوں کی بناوٹ، خدوخال وغیرہ موجود ہیں ، انسانوں کے ’علوم الالسنہ‘ ایک ایسی شے ہیں جس کی بابت یہ ضرب المثل صادق آتی ہے کہ ’’از علم لغت فرشتہ عاری است‘‘ انسان کی قوت ایجاد و اختراع اس قدر بڑھی ہوئی ہے، کہ جملہ کائنات پر گویا اسی کو تصرفِ تام اور اقتدارِ کلی حاصل ہے۔
پھر روحانیت میں آؤ، تو معلوم ہوتا ہے، کہ دنیا و مافیہا، سب کے سب ایک عالمِ صغیر تھے، عالمِ کبیر تو انسان کا قلب ہے۔ جہاں حقائق و معارف کی نشوونما ہوتی ہے۔ معانی تمثیل اختیار کرتے ہیں ۔ تصورات کو درجۂ تصدیق ملتا ہے۔
یہ نہایت مختصر اشارات ہیں جو عوالم مسکونہ کے متعلق بیان کر دئیے ہیں ۔
کائنات بحور کو اگر بیان کرنا چاہیں اور بعد ازاں علم الافلاک کا اگر ذکر کریں تو بیان اور بھی زیادہ طویل و دقیق ہو جائے۔ ایک طالبِ حق کے لیے تو اس مقام پر سمجھ لینا ہے کہ یہ سب کچھ اَلْخَالِقُ، اَلْبَارِیُٔ، اَلْمُصَوِّرُ کی ادنیٰ قدرتوں کا بیان ہے۔
وہی ہے، جو عدم کو وجود بخشتا ہے، وہی ہے جو جسم کو روح عطا کرتا ہے، وہی ہے جو سب کو اپنی اپنی شکل و صورت میں انفرادی و امتیازی شان بخشتا ہے۔


AL-MUSSAWIR NAME MEANING IN ENGLISH
The Fashioner of Forms, The Artist, Designer, The Shaper of Beauty, The One who forms His creatures in different pictures

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button