الکبیر نام کا مطلب
الکبیر نام کا مطلب ہےبہت بڑا
الکبیر نام کے فائدے
عہدہ سے معزول شخص سات روزے رکھے اور روزانہ ایک ہزار مرتبہ اَلْکَبِیْرُ پڑھے تو انشااللہ تعالی عہدہ پر بحال ہو جاے گا
الکبیر نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
کِبْر سے ہے۔ اہلِ دنیا میں کبر کا استعمال کلانی سن و سال کے متعلق بالتخصیص کیا کرتے ہیں ۔ مطلقاً بزرگی و بزرگ منشی بھی اس کے معنی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زمان و مکان سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ اس کے اسمِ احسن میں مطلق بزرگی و عظمت کے معنی ہی مقصود ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کبیر ہے اور جملہ موجوداتِ زمانی و غیر زمانی پر اسے سبقت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ کبیر ہے اور اس کی کبریائی کے سامنے ہر ایک اکبر الکبیر ادنیٰ ترین صغیر ہے۔
اللہ تعالیٰ کبیر ہے۔ وہ کامل الصفات اور شامل الصفات ہے۔
اللہ تعالیٰ کبیر ہے اور کبریائی اس کی رداء ہے۔
وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ(الجاثیۃ: ۳۷)
’’آسمانوں اور زمین میں اسی کو کبریائی حاصل ہے، وہی عزت والا ہے، حکمت والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہی کبیر ہے، جو اہل ایمان کو نعیم اور ملکِ کبیر عطا فرمائے گا۔
قرآن مجید میں یہ اسم جن اسمائے حسنیٰ کے ساتھ مستعمل ہوا ہے، وہ یہ ہیں
عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ (الرعد: ۹)
’’غیب اور شہادت کا جاننے والا۔ کبر اور علو والا۔‘‘
وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْعَلیُّ الْکَبِیْرُ (حج: ۶۲، لقمن: ۳۰)
’’بے شک اللہ ہی برتر و بزرگ ہے۔‘‘
فَالْحُکْمُ لِلَّہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ (المومن: ۱۲)
’’حکم اللہ ہی کا ہے، جو بلند تر اور بزرگ تر ہے۔‘‘
ان آیات پر غور کرو کہ کبریائی اور علو کو کس طرح شامل کر کے بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی کو سبقتِ زمانی یا عظمتِ ایجاد کے ساتھ نہ سمجھا جائے بلکہ وہ ان سب سے بالاتر ہے۔ خود ہی فرما دیا ہے
سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا (بنی اسرائیل: ۴۳)
’’یہ لوگ جو کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے قاوال سے بلند نہایت بلند، بزرگ نہایت بزرگ ہے۔‘‘
AL-KABEER MEANING IN ENGLISH
The Greatest, The One who is greater than everything in status