اللہاللہ کے نام

76- الباطن

Al-Batin

الباطن نام کا مطلب
الباطن نام کا مطلب ہے سب سے پیچھے

الباطن نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
اَلظَّاہِرُ، اَلْبَاطِنُ ۔ ان الفاظ کی اسل ظہر و بطن ہے۔ ظہر پشت کو اور بطن شکم کو کہتے
ہیں ۔ بعد ازاں ظہر اس چیز کو کہنے لگے جو ادراکِ حس میں آجائے او ربطن اس شے کو جو مخفی از حس ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَ ذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ﴾ (الانعام: ۱۲۰)
’’گناہ کی ظاہری و باطنی کیفیتوں اور حالتوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔‘‘
اللہ تعالیٰ باطن ہے یعنی حقیقت عرفان کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ باطن ہے اور کوئی ادراک اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ﴿لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ﴾ (الانعام: ۱۰۳)
اللہ ظاہر و باطن ہے اور اسی کی طرف سے نعم ظاہرہ و انعامات باطنہ حاصلہ ہوتی ہیں ۔ ﴿وَ اَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً﴾ (لقمان: ۲۰)
اللہ تعالیٰ باطن ہے کیونکہ اس کی کنہ ذات سے حس ابصار اور درکِ افکار کوتاہ ہیں ۔
اللہ تعالیٰ باطن ہے۔ ستر کبریائی اس کا حجاب ہے اور حجابِ کمال اس کا بطون ہے۔ ترمذی کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہرہ رحمہ اللہ کو یہ دعا سکھلائی تھی۔
((اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِرَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیلِ وَالْفُرْقَانِ اَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْئٍ اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہٖ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ۔)) (صحیح مسلم، جامع ترمذی، مؤطا امام احمد)
’’یا اللہ! آسمانوں کے رب، زمینوں کے رب اور عرش عظیم کے رب، ہمارے پروردگار اور سب چیزوں کے پروردگار، تورات اور انجیل اور قرآن اتارنے والے، دانہ اور گٹھلی کو زمین سے اگانے والے میں ہر ایک شے (جو تیرے قبضہ میں ہے) کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ تو اوّل ہے۔ تجھ سے پہلے کوئی شے نہ تھی۔ تو آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں ۔ تو ظاہر ہے تجھ سے اوپر کوئی شے نہیں ، تو باطن ہے تجھ سے پرے کوئی شے نہیں ۔ میرا قرض اتار دے اور مجھے تنگ دستی سے نجات دے۔‘‘
واضح ہو کہ ہر دو اسماء اَلظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ہر دو مزدوج آتے ہیں ۔


AL-BATIN MEANING IN ENGLISH
The Hidden, The All Encompas, The One that nothing is above Him and nothing is underneath Him, hence He exists without a place. He, The Exalted, His Existence is obvious by proofs and He is clear from the delusions of attributes of bodies

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button