اللہ کے نام

66- الواحد

Al-Wahid

الواحد نام کا مطلب
الواحد نام کا مطلب ہے ایک

الواحد نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
وَحْدَتْ: یگانگی، اس کا فعل باب سَمِعَ یَسْمَعُ سے آتا ہے۔ وَاحِدَ، وَحَادَۃً، وَحُوْدَۃً، وَحُوْدًا، وَحْدًا و وَحْدَۃً۔
وحید اس کا فعیل ہے جس کے معنی یگانہ ہیں ۔
توحید اس کا تفعیل ہے، جس کے معنی یگانہ گردانیدن ہیں ۔
توحد اس کا تفعل ہے جس کے معنی یگانہ شدن ہیں ۔
قرآن پاک میں لفظ واحد بطور اسم پاک اکیس مقامات پر آیا ہے اور غور کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ اس کا اقتران (قربت) یا تو لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کے ساتھ ہوا ہے یا قَھَّار کے ساتھ۔
یعنی لفظ واحد ایسا وحدت پسند ہوا کہ ترکیب اقترانی میں بھی وہ ایسے کلمہ یا اسم کے ساتھ مستعمل ہوا ہے کہ خود بھی شرکت سے دور ہے۔
اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ تم کو صر ف ایک بات نصیحت کرتا ہوں ۔
﴿وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا﴾ وہ جسے میں نے تنہا بلا شرکت غیر سے پیدا کیا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صفت میں ہے:
((لقد احدت بہ امہ))
’’اس کی ماں نے یکتا و بے مثل جنا۔ اس کی ماں نے اسی کو جنا۔‘‘
بے شک اللہ تعالیٰ واحد ہے اور اسی کی وحدت ذاتی ہے۔
واضح ہو کہ اعداد میں بھی سب سے پہلے عدد کو واحد (ایک) بولا جاتا ہے۔ یہ تو صفت عددی ہے، نہ وصف ذاتی، لیکن علماء ربانی اس سے بھی، اللہ تعالیٰ کیع رفان کی دلیل حاصل کرلیتے ہیں ۔
احادیث پر نگاہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو کیسے کیسے اسالیب پاک سے بیان فرمایا گیا ہے۔
۱۔ ((اَللّٰہُمَّ مَا اَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِعْمَۃٍ اَوْ بِاَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ۔))
(رواہ ابو داؤد و عن عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہ خیام البیاضی)
’’یا اللہ! جو نعمت آج مجھے حاصل ہے، یا تیری خلقت میں سے کسی اور کو حاصل ہے وہ سب تیری جانب سے ہے۔ تو واحد ہے، تیری کوئی شریک نہیں ۔ حمد بھی تیرے لیے ہے اور شکر بھی تیرے لیے ہے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا صبح پڑھ لی اس نے دن کا حق ادا کردیا جس نے شام کو پڑھ لی اس نے رات کا حق ادا کر دیا۔
۲۔ ((لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شِیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَحَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔)) (اخرجہ السنن النسائی عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہ )
’’اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ملک بھی اسی کا ہے اور حمد کا مالک بھی وہی ہے اور وہی سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ ہماری بازگشت اور توبہ اور عبادت اور سجدہ اور حمد اللہ ہی کے لیے ہے اللہ نے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور اکیلے نے جماعتوں کو شکست دی۔‘‘
((لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شِیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) (ترمذی عن عمرو بن شعیب)
’’اللہ ایک ہی ہے، جو معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کی بادشاہی ہے۔ اسی کے لیے حمد ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بہتر ذکر جو میں نے کہا اور جو مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام نے کہا وہ یہی ہے۔
۳۔ ترمذی بروایت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی شخص ایک دن میں سو بار یہ وظیفہ کرلے، اسے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا ثواب ہوگا، سو نیکیاں اس کی لکھی جائیں گی، سو بدیاں اس کی مٹا دی جائیں گی اور اس روز اسے شیطان سے حفاظت ہوگی اور اس روز اس سے اچھے عمل والا صرف وہی ہوگا جس نے یہی کلمات اس سے زیادہ فعہ کہے ہوں گے۔
((لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شِیْئٍ قَدِیْرٌ۔))
’’اللہ ایک ہی ہے، جو معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کی بادشاہی ہے۔ اسی کے لیے حمد ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
تب بندہ بندہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا ادب و جلال اس کے قلب پر متمکن ہو جاتا ہے اور اس حالت میں قولاً، فعلاً، عملاً بندہ کو موحد ہونے کا درجہ مل جاتا ہے۔
انوارِ توحید آیات میں دیکھو۔
۱۔ ﴿وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ﴾ (الانبیاء: ۲۵)
’’تجھ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کو ہم نے یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا اور کوئی الوہیت والا نہیں ، لہٰذا تم سب میری ہی عبادت کرو۔‘‘
۲۔ ﴿وَاسْاَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنَا اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ آلِہَۃً یُعْبَدُوْنَ﴾ (الزخرف: ۴۵)
’’تم سے پہلے جو ہم نے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے (اللہ) رحمن کے سوا دوسرے معبود ٹھہرا دیے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے۔‘‘
۳۔ ﴿اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ہُمْ یُنْشِرُوْنَ﴾ (الانبیاء: ۲۱)
’’کیا انہوں نے زمین کی مادی اشیاء کے معبود بنائے ہیں ، کیا وہ زندہ بھی کرسکتے ہیں ۔‘‘
۴۔ ﴿لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴾ (الانبیاء: ۲۲)
’’اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تب زمین و آسمان دونوں ہی تباہ ہوگئے ہوتے۔ پس پاک ہے اللہ عرش کا مالک، ان مشرکوں کی باتوں سے۔‘‘
۱۔ ﴿قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَ لِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾ (الانعام: ۱۴)
’’کہہ دے کہ اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور کسی سے دل لگاؤں ؟‘‘
۲۔ ﴿اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا﴾ (الانعام: ۱۱۴)
’’کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو فیصلہ کرنے والا پسند کرلوں ۔‘‘
یہی وہ توحید ہے جس کی طرف تمام رسل و انبیاء دعوت دیتے رہے۔ یہی وہ توحید ہے جو نجات کی کلید ہے۔
یہی وہ توحید ہے جس پر زمین و آسمان کا قیام ہے اور اسی توحید کا مالک الواحد ہے۔


AL-WAHID MEANING IN ENGLISH
The One, The Unique, Manifes, The One without a partner

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button