الحق نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
میں نے قرآن مجید کی آیات کا تتبع کیا تو یہ لفظ قرآن مجید میں ۲۳۷ بار مستعمل ہوا ہے۔ اس لفظ کا اس کثرت سے استعمال بتلاتا ہے کہ قرآن مجید کا مقصود اعظم حق ہی کی معرفت دنیا میں حق پھیلانا، حق بولنا، حق سکھلانا ہے یعنی کلام اللہ سراپا حق ہے اور منجانب حق ہے۔ حق کو لے کر آیا ہے۔ حق اس کے ساتھ ساتھ ہے۔ لغت میں حق کے معنی متعدد ہیں ۔
۱۔ راستی و راست بازی ان معنی میں ہے۔
﴿وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ﴾ (الکہف: ۲۹)
’’اور اعلان کر دیجیے کہ یہ امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔‘‘
۲۔ کسی کام کا یقینا واقع ہونا۔
﴿وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ﴾ (الاعراف: ۸)
’’اس روز اعمال کا وزن ہونا ضروری ہے۔ یہ دن ضرور آنے والا ہے۔‘‘
۳۔ کسی شخص کا معین حصہ و بہرہ۔
﴿وَفِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ﴾ (الذاریات: ۱۹)
’’ان کے زر و مال میں سوالی اور محروم کا حصہ ہے۔‘‘
۴۔ ثابت و لزوم ہونا۔
﴿اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ﴾ (الاحقاف: ۱۸)
’’یہ وہ ہیں جن پر اللہ کا فرمان ثابت ہوگیا۔‘‘
۵۔ عدل و انصاف۔
﴿ہٰذَا کِتَابُنَا یَنطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ﴾ (الجاثیہ: ۲۹)
’’ہماری یہ کتاب تم پر ٹھیک ٹھیک بتلا رہی ہے۔‘‘
۶۔ اکمال و اتمام
﴿قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ﴾ (النسآء: ۱۷۰)
’’رسول تمہارے پاس حق لے کر آیا ہے۔‘‘
۷۔ اصلیت
﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ﴾ (الزمر: ۵)
’’آسمانوں اور زمین کو سچ مچ پیدا کیا ہے۔‘‘
۸۔ صداقت
﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ﴾ (النسآء: ۱۰۵)
’’یقینا ہم نے کتاب کو تجھ پر صداقت کے ساتھ نازل کیا ہے۔‘‘
۹۔ رشد و ہدایت
﴿یَہْدِیْ اِِلَی الْحَقِّ وَاِِلٰی طَرِیقٍ مُسْتَقِیْمٍ﴾ (الاحقاف: ۳۰)
’’حق سیدھی راہ کی طرف لے جانے والا ہے۔‘‘
جب لفظ حق کے اتنے معنی ہوئے تو یقین کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک الحق ان جملہ معانی کے لحاظ سے منفرداً مجتمعا حیثیت سے بالکل درست ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ دین الحق کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ دعوت الی الحق اس کے واسطے سے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کی جانب سے بشارت حقہ ملتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جو حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے اور فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کی کتاب سراپا حق ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے رسول حق پہنچایا کرتے، حق بتایا کرتے، حق دکھلایا کرتے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے حضور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت پڑھا کرتے تھے:
((وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَائُ کَ حَقٌّ وَ قَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃٌ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَ مُحَمَّدٌ صلي الله عليه وسلم حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ۔))
’’اور تیرے لیے صفت ہے۔ تو سچ ہے اور وعدہ تیرا سچا ہے اور دیدار تیرا سچا ہے اور بات تیری سچی ہے اور بہشت سچ ہے اور آگ سچ ہے اور نبی تمام سچ ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچ ہیں اور قیامت سچ ہے۔‘‘ ان حقائق پر یقین کرو، حقائق تلاش کرو۔ حق کے پیچھے لگے چلو۔ حق مانگو اور حق ہی پکارو۔
لوگ مشرق و مغرب میں بھاگے بھاگے پھرتے ہیں مگر دربارِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا حق اور جگہ نہیں ہے۔ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ: اور میں (بھی) سچ کہتا ہوں ۔
AL-HAQ MEANING IN ENGLISH
The Truth, The Real, The One who truly exists