اللہ کے نام

80- التواب

At-Tawwab

التواب نام کا مطلب
التواب نام کا مطلب ہے بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا

التواب نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
توب کے لغوی معنی بازگشت کے ہیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سفر کو بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما صاحبان صحاح رحمہ اللہ نے (بجز نسائی) بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک ٹیلہ یا بلندی پر چڑھتے ہوئے تین بار اللہ اکبر پکارتے اور اس کے بعد یہ کلمات فرماتے۔
((لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شِیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَحَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔))
’’اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ملک بھی اسی کا ہے۔ حمد اسی کے لیے ہے۔ وہ سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ ہمارا جانا، ہمارا لوٹنا اللہ کے لیے ہے۔ ہم رب کی ہی عبادت کرتے، اسی کو سجدہ، اسی کی حمد کرتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا، اپنے بندہ کی مدد فرمائی۔ دشمن کے لشکروں کو اس اکیلے اللہ نے تتر بتر کیا۔‘‘
قرآن مجید میں دس مقامات پر اسم توّاب آیا ہے۔ سورہ نور میں ﴿وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ﴾ (النور: ۱۰) ہے۔ باقی آٹھ مقامات پر تَوَّابٌ حَکِیْمٌ ہے اور ایک جگہ صرف تَوَّابًا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا توبہ قبول فرمانا مبنی بر رحم ہے۔ اور رحم الٰہی ہی اللہ تعالیٰ کا حکیم ہونا ظاہر کر رہا ہے۔
معافی کے جذبہ سے کوئی انسان خالی نہیں اور جو کوئی شخص شرافت و نجابت میں بڑھا ہوا ہے، جس کے دل میں رحم، لطف، عطوفت، مہربانی ہے، وہی اوروں سے زیادہ معافی دینے والا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا سراپا رحمت، سراپا رحم ہونا مسلمہ ہے۔ لہٰذا اس کا توبہ پذیر ہونا بھی ضروری ہوا۔
تواب جو اسم پاک ہے اس کے معنی خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں ۔
﴿وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ﴾ (الشوریٰ: ۲۵)
’’اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔‘‘
﴿غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ﴾ (المومن: ۳)
’’وہ گناہوں کا ڈھانک دینے والا، اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘


AT-TAWWAB MEANING IN ENGLISH
The Ever Returning, The One who grants repentance to whoever He willed among His creatures and accepts his repentance

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button