اللہ کے نام

50- الشھید

Ash-Shaheed

الشھید  نام کا مطلب
الشھید نام کا مطلب ہے حاضر

الشھید نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
شہادت۔ آگاہی درست و خبر قاطع و بیانِ صحیح و گواہی و کشتگی براہِ خدا کو کہتے ہیں ۔
شہادتِ علمی کا بیان اس آیت میں ہے۔
﴿اِِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ﴾ (الزخرف: ۸۶)
’’مگر جنہوں نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ علم بھی رکھتے ہیں ۔‘‘
شہادتِ تکلم و خبر کا بیان اس آیت میں ہے:
﴿قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا فَاِنْ شَہِدُوْا فَلَا تَشْہَدْ مَعَہُمْ﴾ (الانعام: ۱۵۰)
’’کہہ دے کہ اپنے گواہوں کو لے آؤ، جو یہ شہادت دیں کہ ان چیزوں کو اللہ نے حرام کر دیا ہے۔ وہ اگر کہہ بھی دیں تو آپ پھر بھی ایسا نہ کہیں ۔‘‘
شہادتِ اعلام کا ذکر اس آیت میں ہے جس میں بندہ کا خود اپنی بابت بیان کرنا بھی شہادت بتلایا ہے۔
﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ﴾ (النساء: ۱۳۵)
’’ایمان والو! انصاف کو قائم کرنے والے بن جاؤ، اللہ کے گواہ بنے رہو، خواہ تمہاری شہادت خود تمہارے خلاف ہو۔‘‘
دوسری آیت:
اللہ تعالیٰ شہید ہے کہ اس نے علومِ معرفت اور اسرارِ حقیقت کا اعلام فرمایا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ﴾ (الحج: ۱۷)
’’بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘
معنی شہادت کو ذہن نشین کرنے کے لیے سورہ یوسف کی ان آیات کو بھی زیر غور لاؤ۔
﴿شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ ہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ وَ اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَ ہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴾(یوسف: ۲۶، ۲۷)
’’اس کے کنبہ کے ایک گواہ نے شہادت دی کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تب وہ سچی اور وہ جھوٹا، اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تب وہ جھوٹی اور وہ سچا۔‘‘
یہ شخص جسے شاہد بتلایا گیا ہے، اپنا چشم دید کچھ نہیں بتلاتا بلکہ استدلال سے واقعہ کے اثبات و نفی پر روشنی ڈالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا نام اس لیے بھی شہید ہے کہ جملہ اختیارِ علمیہ پر وہ استدلال کرنا سکھلاتا اور بصائر کو پیش کرتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکبر الکبائر (کبیرہ گناہوں میں بھی سخت تر کبیرہ) چار چیزوں کو بتایا ہے۔
۱۔ اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک بنانا۔
۲۔ عَقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔
۳۔ شَہَادَۃَ الزُّوْرِ جھوٹی شہادت دینا۔
۴۔ قَوْلَ الزُّوْرِ جھوٹی بات بتانا۔
راوی کہتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے تھے۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ان الفاظ کو بار بار دہرانا شروع کیا۔ وَشَہَادَۃَ الزُّوْرِ وَقَوْلَ الزُّوْرِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بار دہرایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش حضور خاموش ہو جائیں ۔ (لَیْتَہٗ سَکَتْ)
اس اسم سے تخلق کرنے والوں کو لازم ہے کہ:
اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر اپنے قلب کی نگرانی کریں ۔
بیانِ توحید میں اپنی زبان کو جاری اور قلم کو رواں کریں ۔
جھوٹی شہادت سے بچیں ۔ آج جوڈیشنل عدالتوں میں اکثر گواہ ایسے پیش ہوتے ہیں جو فرائض شہادت سے لا علم اور بے اعتناء ہوتے ہیں جو کسی فریق کی اعانت و رعایت یا کسی فریق سے نفرت و عداوت کی وجہ سے شہادت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔


ASH-SHAHEED MEANING IN ENGLISH
The Witness, The One who nothing is absent from Him

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button