اردو شاعریغزلیں

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی – غزل علامہ اقبال

Wohi Meri Kam Naseebi Wohi Teri Bey Niazi - Ghazal by Poet Allama Iqbal

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہے
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومیؔ کبھی پیچ و تاب رازیؔ

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button