اردو شاعریغزلیں

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے – غزل علامہ اقبال

Maktabo Mein Kahin Raa nai Afkaar Bhi Hai - Ghazal by Poet Allama Iqbal

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے
خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے

منزل رہ رواں دور بھی دشوار بھی ہے
کوئی اس قافلہ میں قافلہ سالار بھی ہے

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطن
اس زمانے میں کوئی حیدر کرار بھی ہے

علم کی حد سے پرے بندۂ مومن کے لیے
لذت شوق بھی ہے نعمت دیدار بھی ہے

پیر مے خانہ یہ کہتا ہے کہ ایوان فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئینہ دیوار بھی ہے

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button