جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں – غزل علامہ اقبال

Jinhain Main Dhoondta Tha Aasmano Main Zamino Main - Ghazal by Poet Allama Iqbal

جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں

اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہ سائی سے
تو سنگ آستان کعبہ جا ملتا جبینوں میں

کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلیٰ کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں

جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی
الٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انہی خلوت گزينوں میں

کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو
کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں

محبت کے لئے دل ڈھونڈ کئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں

پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے ما عرفنا پر
ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرينوں میں

نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں

خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

برا سمجھوں انہیں مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نکتہ چینوں میں

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button