لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں – غزل علامہ اقبال

La Kar Barhmanon ko Siyasat K Paich Mein - Ghazal by Poet Allama Iqbal

لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زناريوں کو دیر کہن سے نکال دو

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو

اقبالؔ کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button