پتھر

ایمے تھسٹ پتھر کے فوائد

Amethyst Stone Benefits

یہ پتھر جس ملک میں دریافت ہوتا ہے یا پایا جاتا ہے اس ملک میں ایک نام اختیار کر لیتا ہے انگریزی میں اس پتھر کا نام ایمے تھسٹ ہے اور ہندی زبان میں اسے ٹھیکہم کہا جاتا ہے لیکن یہ انگریزی نام سے ہی مشہور ہے اور بیشتر ممالک میں ایسے جھٹ کے نام ہی سے پکارا جاتا ہے۔

ماهیت
یہ مشہور زمانہ پتھر ہے اس کا تعلق عقیق کی ایک قسم سے ہے یہ پتھر سونے کے زیورات میں بکثرت جڑا جاتا ہے۔

رنگت
عام طور پر ایمے تھسٹ سرخ نیلگوں سرخ اور ارغوانی رنگت کا ہوتا ہے ارغوانی رنگ کا پتھر انڈین ایمے تھسٹ ہوتا ہے۔

اقسام
اس پتھر کی تین اقسام بے حد مشہور ہیں۔

سیلونی ایمے تھسٹ: سیلون یعنی سری لنکا میں دریافت ہونے والے اس پتھر کو سیلونی ایمے تھسٹ کہا جاتا ہے۔

انڈین ایمے تھسٹ: ہندوستان میں پائے جانے والے اس پتھر کو انڈین ایمے تھسٹ کہتے ہیں۔

 سائبرین ایمے تھسٹ: جو ایمے تھسٹ سائبریا میں پایا جاتا ہے اسے سائبرین ایسے تھسٹ کہا جاتا ہے۔

اهمیت
ایمے تھسٹ اس لحاظ سے انتہائی تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ اس کا تعلق مقدس الہامی کتابوں سے ہے زبور توریت اور بائبل میں اس پتھر کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ الہامی کتابیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبروں پر نازل فرمائی ہیں۔

ایمے تھسٹ کو قدیم زمانے سے ہی مذہبی حیثیت حاصل رہی ہے، قبل از تاریخ پوجا پاٹ اور مذہبی رسوم میں استعمال کیا جاتا تھا، اس پتھر سے مقدس مقامات اور دیوتاؤں کے مجسموں کی زیبائش کا کام لیا جاتا تھا۔

یونانیوں کے سب سے بڑے مقدس دیوتا کا پیالہ ایمے تھسٹ پتھر کا تھا، جس میں وہ شراب پیتا تھا، دیوتا زیورس کے اس پیالے کا ذکر یونانی دیو مالائی قصوں میں ملتا ہے۔

 پیغمبروں رشیوں اور ہندوؤں کے دیوتاؤں سے بھی اس پتھر کا تعلق تاریخ سے ثابت ہے۔

ایمے تھسٹ کے طبی فوائد

پاخانه اور ناخن: سرخ ایمے تھسٹ پیشاب یا پاخانہ کی سفید رنگت کو معمول پر لاتا ہے اور ناخنوں کا بھدا پن دور کرتا ہے۔

 نیند کی زیادتی: سرخ ایمے تھسٹ نیند کی زیادتی کو کنٹرول کرتا ہے اور سستی و کاہلی دور کرتا ہے۔

  حیات انسانی: سرخ رنگ کا ایمے تھسٹ بھوک کی کمی کو دور کرتا ہے زندگی میں اضافہ کرتا ہے۔

ام الصبیان: بچوں کے امراض کے لیے ایمے تھسٹ شافی دوا ثابت ہوتا ہے۔

 العطش: ایمے تھسٹ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے اور تسکین دیتا ہے۔

دافع خمار : اس پتھر کا استعمال ذہن پر چھائے خمار کو دور کرتا ہے اور شراب کا نشہ زائل کرتا ہے۔

مردانه کمزوری: ایمے تھسٹ مردوں کے لیے بہت اکسیر ہے اس کے استعمال سے مردانہ عضوتناسل میں طاقت پیدا ہوتی ہے اور یہ مردانہ کمزوری کو دور کرتا ہے۔

پولیو: یہ پتھر بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھتا ہے جسم میں فاسفورس اور کیلشیم کی کی کوڈ ور کرتا ہے اور ہڈیوں کو طاقت دے کر مضبوط بناتا ہے ہڈیوں کو بھر بھرا ہونے سے بچاتا ہے یعنی مرض کا تدارک کرتا ہے۔

امراض نسواں: ایمے تھسٹ خواتین کے امراض التہاب رحم التہاب خصیة الرحم اور انتہاب مثانہ وغیرہ میں مفید ہے۔

 برتھ اسٹون
علم نجوم کی رو سے ایمے تھسٹ کا تعلق سیارہ مشتری سے ہے جو برج قوس اور برج حوت کا حکمراں سیارہ ہے چنانچہ یہ قوس اور حوتی افراد کا موافق پتھر ہے اور ان لوگوں کو راس آتا ہے جن کے زائچے میں سیارہ مشتری کمزور ہو یا جن کا لکی نمبر 3 ہوان کے علاوہ یہ ماہ فروری میں پیدا ہونے والے حوثی افراد کا برتھ اسٹون ہے۔

ایمے تھسٹ کے فوائد

اعلیٰ مرتبہ: ایمے تھٹ کا استعمال انسان کو مستقبل میں اعلیٰ مرتبہ وعہد ہ عطا کرتا ہے۔

 ادراک اور شعور : یہ پتھر انسانی شعور میں پوشیدہ تصورات اور خیالات کو پاکیزہ بناتا ہے۔

 نئی زندگی: ایمے تھسٹ کے اثرات سے جسم انسانی میں نئی زندگی اور نئی توانائی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایمے تھسٹ سے برقی شعائیں خارج ہو کر انسان کے جسمانی اعصاب میں تحریک پیدا کرتی ہیں اور اس کے شعور اور ادراک کو بیدار کرتی ہیں۔

قوت حیات: ایمے تھٹ کے اثرات انسان میں یوگا والی قوت حیات کو بیدار کرنے والی ایٹمی توانائی پیدا کرتےہیں۔

عرفانِ ذات: ایمےتھسٹ کا انسانی ذہن پر گہرا اثر ہوتا ہے یہ انسان میں ذاتی عرفان ( خود بینی کی قوت ) پیدا کرتا ہے۔

لا شعوری باتیں: یہ پتھر انسان کو لاشعور میں پوشیدہ اور ابھری ہوئی باتوں کا فورا شعور پہنچا دیتا ہے۔

 برقی کشش: ایمے تھٹ انسانی جسم میں موجود برقی لہروں کے ذریعے اعصابی ریشوں میں ارتعاش پیدا کرتا ہے اس لیے افراد ما سوائے حواس کی مشق کرنے والے اس پتھر کو لازمی استعمال کرتے ہیں یہ ریڑھ کی ہڈی کو جسم میں پھیلاتا ہے۔

ایمے تھسٹ کہاں پایا جاتا ہے
 ایمے تھسٹ پتھر روس، افریقہ سری لنکا اور چین میں پایا جاتا ہے جہاں اس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں لیکن سری لنکا سائبریا اور ہندوستان میں یہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button