اللہ کے نام

53- القوی

Al-Qawi

القوی نام کا مطلب
القوی نام کا مطلب ہے بڑی طاقت اور قوت والا

القوی نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
قوت سے ہے۔ قوت کا استعمال قرآن مجید میں چند مقامات پر آیا ہے۔
سورہ کہف میں ہے کہ جب ذوالقرنین علیہ السلام نے تیسرا دور جانب شمال کیا تب وہاں کے باشندوں نے یاجوج ماجوج کی لوٹ مار کی شکایت کی تھی اور ذوالقرنین کو خرچ (مصارف) دینے کا اظہار کیا تھا، تب ذوالقرنین نے نقدی لینے سے انکار کیا اور یہ کہا ﴿فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ﴾ مجھے کام کرنے والے آدمی درکار ہیں ۔
سورہ انفال میں حکم ہے کہ مسلمان اپنی حدود سلطنت پر قوۃ کو موجود رکھیں ۔
﴿وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ﴾ (الانفال: ۶۰)
’’تم جہاں تک ہوسکتا ہے دشمن کے لیے اپنی قوت اور طاقت کو تیار رکھو۔‘‘
صحیح مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منبر قوۃ کی تفسیر تیرافگنی سے فرمائی تھی۔ اب مفسرین قوت کے تحت میں جملہ آلاتِ حرب کو مراد ربانی بتلاتے ہیں ۔
سورہ بقرہ و اعراف میں ہے کہ بنی اسرائیل کو شریعت دی گئی تو ان کو حکم دیا گیا تھا کہ ﴿خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ﴾ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے قوت سے پکڑ رکھو۔ استقلال اور عمل مدام کے ساتھ اس شریعت کو پکڑ رکھو۔
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِِيِّ الْعَظِیْمِ کی شرح میں ہے کہ نیکی کرنے کی طاقت اور بدی سے بچنے کی طاقت اللہ تعالیٰ ہی سے ملتی ہے۔ یہ شرح ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی فرمودہ ہے۔
قرآن مجید میں یہ نام اللہ تعالیٰ کے انفال و مومن میں ﴿شَدِیْدُ الْعِقَاب﴾ کے ساتھ اور سورہ حدید و شوریٰ و ہود و حج میں اسم العزیز کے ساتھ مستعمل ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ قوی ہے اور تمام قوتیں اسی سے حاصل ہوتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ قوی ہے اور اس نے جملہ مظاہر کو قوت ربانی سے ظہو ربخشا ہے۔
اللہ تعالیٰ قوی ہے۔ اسی کا نام ضعیفوں کے لیے توانائی بخشنے والا ہے۔
دل کو قوت ایمان بخشتا ہے۔ روح کو قوتِ عرفان عطا کرتا ہے۔ قویٰ کو قوی بناتا ہے۔ جسم کو مضبوط بناتا ہے۔


AL-QAWI MEANING IN ENGLISH
The Strong, The One with the complete Power

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button