المؤمن نام کا مطلب
المؤمن نام کا مطلب ہے امن دینے والا، آفات و وعذاب سے امن و امان رکھنے والا
المؤمن نام کے فائدے
کسی خوف کے وقت چھ سو تیس مرتبہ پڑھنے سے انشااللہ تعالی نقصان و خوف سے محفوظ رہے گا
اس اسم کا پڑھنے والا یا اس اسم کو لکھ کر اپنے پاس رکھنے والا اللہ کی امان میں رہے گا
المؤمن نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ’’مؤمن‘‘ بھی ہے۔ اس کے معنی کی دو صورتیں ہیں
اوّل: اللہ تعالیٰ کا نام مومن، ایمان سے بنا ہے۔
اللہ تعالیٰ مومن ہے، کہ بندہ کو ایمان عطا کرتا ہے۔
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ (الحجرات: ۷)
’’اللہ ہی ہے، جس نے ایمان کو تمہارا محبوب بنا دیا ہے۔‘‘
اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِِیْمَانَ (المجادلۃ: ۲۲)
’’یہ وہ ہیں ، جن کے دل میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔‘‘
دوم: اللہ تعالیٰ کا نام مومن، امن سے بنا ہے یعنی مومن وہ ہے جو امن بخشتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بیت اللہ کو امن بنایا۔
وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا (البقرۃ: ۱۲۵)
’’ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے پناہ اور امن کی جگہ بنایا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے توحید کو قلوب کا امن بتلایا ہے
وَ کَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا فَاَیُّ الْفَرِیْقِیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَ ہُمْ مُّہْتَدُوْنَ﴾ (الانعام: ۸۱-۸۲)
’’میں تمہارے بتوں سے کیوں ڈروں ۔ تم تو اللہ کیس اتھ شرک کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے، حالانکہ جو ازِ شرک کی کوئی دلیل بھی کسی آسمانی کتاب میں نہیں ۔ غور کرو اگر تم کو علم ہے تو بتلاؤ، کہ ہر دو میں سے کون زیادہ امن کا حق دار ہے۔ ہاں ایمان والوں ہی کے لیے جو ایمان کو شرک کی آمیزش سے صاف رکھتے ہیں ۔ امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہوتے ہیں ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے خلافتِ راشدہ کی علامات میں سے قیامِ امن کا بھی ذکر کیا ہے
وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا (النور: ۵۵)
’’ہم نے ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔‘‘
یہ وہی امن ہے، جو دماغ کو انتشارِ خیالات و توہمات سے اور دل کو ہجوم اوہام و وساوس سے اور روح کو اضطرابِ اندرونی سے بچا لیتا ہے۔
وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌ بِہَا
یہ وہی امن ہے، جو جان و مال و حقوقِ عامہ کی حفاظت کرتا ہے، جو تبلیغ کی راہ سے سب رکاوٹوں کو دُور کر دیتا ہے، جو ایمان میں داخل ہونے والوں کی پریشان خیالی کو محو کر دیتا ہے۔
ملکی امن کا ذکر عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں میں سے ایک یہ بھی فرمائی تھی کہ عدی رضی اللہ عنہ شاید تم کو اسلام میں داخل ہونے سے یہ امر مانع ہے کہ ملک میں امن نہیں ۔ تم عنقریب دیکھ لو گے کہ ایک بڑھیا قادسیہ (حیرہ) سے اکیلی حج کے لیے چلے گی اور وہ اللہ کے سوا راہ میں کسی سے نہ ڈرے گی۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عہد فاروقی رضی اللہ عنہ میں اپنی آنکھوں سے ایسا ہی دیکھ لیا۔
الغرض اللہ تعالیٰ کا اسم پاک مومن ہے۔ کیونکہ وہ ایمان عطا فرماتا ہے۔ وہ امن عطا کرتا ہے۔ اس کا نام فساد کو مٹانے والا ہے۔ اس کا نام دل کو آرام اور روح کو اطمینان دینے والا ہے۔ اس کا نام ملک کو بسانے والا، رعایا کو ٹکانے والا ہے، اس کا نام اجڑا وطن آباد کرنے والا ہے۔
AL-MUMIN NAME MEANING IN ENGLISH
The Inspirer of Faith,The Guardian of Faith,The One Who gives Emaan and Security,