الحمید نام کا مطلب
الحمید نام کا مطلب ہے تعریف کے لائق
الحمید نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
حَمْد سے ہے اور فصیل بمعنی فاعل ہے۔
واضح ہو کہ تین الفاظ ہیں جو متقارب المعنی ہیں ۔ مدح، شکر اور حمد۔
مدح بہت ہی عام ہے۔ حتی کہ نباتات اور جمادات کی تعریف پر بھی لفظ مدح کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ’’الماس نہایت قیمتی ہے۔‘‘ الماس کے لیے مدح تو ہے مگر شکر یا حمد نہیں ہے۔
مدح کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ مدح میں جو صفت بیان کی جاتی ہے اس صفت کا ممدوح میں فی الواقع ہونا ضروری نہیں ، شعراء زمانہ جو قصائد امرا و احکام کی تعریف میں لکھتے ہیں ان کو اسی لیے مدح کہا جاتا ہے۔
مدح کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ مدح قبل از نعمت ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے، مگر شکر بعد از نعمت ہوگا۔
اب شکر کو لیجیے۔ یہ مدح سے خاص تر ہے۔ یعنی صرف محسن و منعم کے مقابلہ میں اس کا استعمال ہوگا۔ غیر ذوی العقول کے لیے نہ ہوگا۔ نیز عطائِ نعمت اور بدلِ احسان کے بعد ہوگا۔ قبل نہ ہوگا۔
اب حمد کو لیجیے۔ وہ مدح اور شکر کے معنی کا جامع بھی ہے اور ان کے کچھ زائد معانی بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ لفظ حمد تو جملہ صفاتِ جمالیہ کا جامع ہے۔ وہ ہر ایک و صف کو جو قدرت و حکومت، الٰہیت و عظمت پر حاوی ہے اپنے اندر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا پر غور کرو۔
((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانٌ یَا بَدْیِعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ۔))
’’یا اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے سب صفتیں ہیں ۔ تو ہی معبود ہے۔ اے محبت و شفقت کرنے والے، اے احسان کرنے والے۔ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والے، اے صاحب بزرگی اور عزت کے، اے زندہ اے قائم۔‘‘
حدیث شریف میں ہے:
((سُبْحٰنَ اللّٰہِ نِصْفُ الْمِیْزَان وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَأُ))
سبحان اللہ کہنے سے میزان عمل آدھی بھر جاتی ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا کہنا اس کے پلڑے کو پورا بھر دیتا ہے۔
توصیف کے دو ہی پہلو ہوتے ہیں ، منفی اور مثبت۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا منفی صفت ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جملہ عیوب ونقائص اور ارجاس و اوناس سے پاک ہے۔
اب قرآن مجید میں استعمال حمد کی آیات پر غور کرو۔
۱۔ ﴿فَلِلَّہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ﴾ (الجاثیہ: ۳۶، ۳۷)
’’اللہ کے لیے حمد ہے جو آسمانوں کا رب ہے، جو زمین کا رب ہے، جو سب عالموں کا رب ہے۔ آسمانوں اور زمین میں کبریائی اسی کے لیے۔ وہی ہے کہ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔‘‘
غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو بیان کیا اور ربوبیت کی وسعت کی وضاحت کی۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کیا اور اس کبریائی کے موطن بتلائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کا بیان فرمایا اور ان صفات کے بعد اس کی ذات کے لیے حمد کا اختصاص واضح کیا۔
۲۔ ﴿وَ لَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْہِرُوْنَ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا﴾ (الروم: ۱۸، ۱۹)
’’آسمانوں میں اور زمین میں عشاء کو اور ظہر کو حمد اسی کو ہوتی ہے۔ وہی ہے جو مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔ وہی ہے جو زمین مردہ کو زندگی بخشتا ہے۔‘‘
غور کرو کہ تبدیلی اوقات اور تبدیلی حالات اور تقلبِ مخلوقات کی صفات پر حمد کو مبنی فرمایا ہے۔
۳۔ ﴿وَ ہُوَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ لَہُ الْحَمْدُ فِے الْاُوْلٰی وَ الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ﴾ (القصص: ۷۰)
’’وہی ہے جو اللہ ہے اور کوئی معبود نہیں ۔ معبود تو وہی ہے۔ ازل و ابد میں حمد اور حکم اسی ہی کو حاصل ہے اور سب نے اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے۔‘‘
زمانہ کی اولیت و اخرویت پر حمد کو حاوی فرمایا اور الوہیت کے اختصاص سے حمد کی خصوصیت کا اظہار کیا۔ ان سب معانی کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کا حمید، مالک الحمد ہونا معلوم کرو۔ اب یہ بھی یاد رکھو کہ حمد کو اسلام کے ساتھ بھی ایک عجیب خصوصیت ہے۔
۱۔ ﴿اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ﴾ (ہود: ۷۳)
’’وہ تو حمد والا مجد والا ہے۔‘‘
۲۔ ﴿تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ﴾ (حٰمٓ السجدۃ: ۴۲)
’’یہ تو حکمت والے، حمد والے کا اتارا ہوا ہے۔‘‘
۳۔ ﴿وَہُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ﴾ (الشوریٰ: ۲۸)
’’وہ تو ولا کرنے والا حمد والا ہے۔‘‘
۴۔ ﴿وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴾ (البقرۃ: ۲۶۷)
’’جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی اور حمید ہے۔‘‘
یہ اقتران بتلاتا ہے کہ مجد و حکمت اور غناو ولایت کے احکام اسم حمید میں داخل ہیں ۔ ہاں اللہ تعالیٰ ہی جملہ ستودگی ہا کا مالک ہے۔ جملہ محامد کا مالک ہے۔ اہل ایمان کو اسی کی تحمید و تمجید و تہلیل و تکبیر سے خانہ دل کو آباد و شاد رکھنا چاہیے۔
اور اس اسم سے تخلق کرنے والوں کو محمود الافعال اور محمود الصفات بننے کی سعی کرنا چاہیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تہجد میں ہے:
(( اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُْورُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقّ۔))
’’اے اللہ! اے ہمارے رب حمد تیرے ہی لیے ہے۔ آسمانوں اور زمین اور سب کا جو ان کے اندر ہیں قائم رکھنے والا تو ہی ہے۔ ہاں تیرے ہی لیے حمد ہے۔ آسمانوں اور زمین اور ان میں سب چیزوں کا نور تو ہی ہے۔ ہاں تیرے ہی لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی سب اشیاء کا بادشاہ تو ہی ہے۔ حمد کا مالک تو ہی ہے۔ تو ہی حق ہے اور تیرا فرمودہ بھی حق ہے۔‘‘
AL-HAMEED MEANING IN ENGLISH
The All Praiseworthy, The praised One who deserves to be praised