الحلیم نام کا مطلب
الحلیم نام کا مطلب ہے بڑا بردبار اور برداشت کرنے والا
الحلیم نام کے فائدے
اس اسم کو کاغذ پر لکھ کر پانی سے دھو کر پانی جس چیز پر بھی چھڑکا جاے گا خیر و برکت ہو گی
الحلیم نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
حلم کے معنی بردباری۔ آہستگی اور عقل ہیں ۔ آیت ﴿اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ﴾ (الطور: ۳۲) میں عقل و دانش ہی کے معنی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ یعنی تحیراتِ اعتبار یہ اس کی ذات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے غضب اس کی رحمت پر غالب نہیں آ سکتا اور رحمت اس کی صفتِ غضب کے لیے مانع نہیں ہو سکتی۔
اللہ تعالیٰ حلیم ہے، یعنی انتقام کے لیے جلدی نہیں کرتا اور گناہ کی سزا میں رزق بند نہیں کرتا۔
قرآن مجید میں اسم حلیم مندرجہ ذیل اسماء کے ساتھ بیان ہوا ہے
اسمِ غفور کے ساتھ ﴿اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴾ (البقرۃ و المائدۃ)
اسمِ غنی کے ساتھ ﴿وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ﴾ (البقرۃ: ۲۶۳)
اسمِ علیم کے ساتھ ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ﴾ (الحج: ۵۹)
اسمِ شکور کے ساتھ ﴿وَ اللّٰہُ شَکُوْرُ حَلِیْمٌ﴾ (التغابن: ۱۷)
ان اسمائے حسنیٰ کے ساتھ اس اسم کی ترکیب یہ معنی پیدا کرتی ہے۔
غفران کے ساتھ حلم کا ہونا بتلاتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو جلد عذاب نہ دینا اس لیے ہے، کہ اس کی مغفرت بندہ کو توبہ کی مہلت عطا فرماتی ہے اور غنی کے ساتھ حلم کا ہونا بتلاتا ہے، کہ رب العالمین کو ایذا دینے والے، شرک کرنے والے، کفر کرنے والے، اللہ کی نگاہ میں بالکل حقیر و ذلیل ہیں اور علم کے ساتھ حلم کا ہونا بردباری کی انتہا ہے۔
علیٰ ہذا شکور کے ساتھ، علیم کی ترکیب ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اعمال حسنہ کو قبول فرماتا ہے اور ان کو بڑھاتا اور اعمال سیئہ کے کفارہ میں دیر و درنگ کرتا ہے اور آہستگی کے ساتھ ایک عرصہ تک اصلاح کی مہلت عطا فرماتا ہے۔
AL-HALIM MEANING IN ENGLISH
The Forbearing, The Indulgent, The One who delays the punishment for those who deserve it and then He might forgive them