النور نام کا مطلب
النور نام کا مطلب ہےسراپا نور اور نور بخشنے والا
النور نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
اوّل لفظ نور کا استعمال قرآن مجید و احادیث پاک میں دیکھو۔
۱۔ ﴿ہُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا﴾ (یونس: ۵)
’’اللہ وہ ہے جس نے سورج کو ضیاء اور قمر کو نور بنایا۔‘‘
اس آیت میں ضیاء کا درجہ نور سے برتر رکھا ہے اور نور کا لفظ محسوس شے کے لیے مستعمل ہوا ہے۔
۲۔ ﴿جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ﴾ (الانعام: ۱)
’’اللہ نے تاریکی اور روشنی کو بنایا۔‘‘
یہاں بھی محسوس چیزوں کا ذکر ہے۔
۳۔ ﴿یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ﴾ (البقرۃ: ۲۵۷)
’’تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔‘‘
یہاں کفر و شرک کو تاریکی اور توحید و ایمان کو نور فرمایا ہے۔ ان چیزوں کا تعلق بصارت سے نہیں بلکہ بصیرت سے ہے۔
۴۔ ﴿یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہِ مَنْ یَّشَآئُ﴾ (النور: ۳۵)
’’اللہ اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے جسے چاہتا ہے۔‘‘
یہاں قرآن مجید کو نور فرمایا گیا ہے۔ اس کے دلائل و ہدایات نور افروز ہیں ۔ اس کی تعلیم روح کو روشن، قلب کو مزین کرنے والی ہیں ۔
۵۔ ﴿قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ﴾ (المائدۃ: ۱۵)
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آئی ہے۔‘‘
اس آیت میں وجود باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ہدایت فرمایا گیا ہے۔
۶۔ ﴿اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ﴾ (الانعام: ۱۲۲)
’’وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اسے نور دیا کہ لوگوں میں اس نور کے ساتھ چلتا پھرتا ہے۔‘‘
دعائے واپسی از طائف کا ایک فقرہ ہے:
((اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتَ لَہُ الظُّلُمٰتُ وَصَلَحَ عَلَیْہِ مِنْ اَمْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔))
’’میں اس ذات پاک کے نور کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں جس نے ظلمات کو چمکا دیا اور اس سے دنیا و آخرت کے کام اصلاح پذیر ہوئے۔‘‘
صحیحین کی حدیث میں ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے تہجد میں تھا۔
((وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ۔))
’’تیرے ہی لیے حمد ہے اور تو ہی زمین و آسمان کا نور ہے۔‘‘
ان تمام مواقع استعمال کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے اسم پاک ’’النور‘‘ کے معنی متعین کرنے چاہئیں ۔ صاحب معالم التنزیل نے ﴿اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ کی تفسیر میں مندرجہ ذیل اقوال درج کیے ہیں :
۱۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما : ((اَللّٰہُ ہَادِیْ اہل السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔))
’’اللہ آسمان اور زمین والوں کی راہنمائی فرماتا ہے۔ انہیں ہدایت بخشتا ہے۔‘‘
۲۔ ضحاک رحمہ اللہ : ((مُنَوِّرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔))
’’اللہ آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والا ہے۔‘‘
۳۔ ابی بن کعب و حسن و ابو العالیہ: ((مُزَیَّنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔))
’’اللہ آسمانوں اور زمین کو مزین و آراستہ فرمانے والا ہے۔‘‘
۴۔ مجاہد: ((مُدَبِّرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔))
’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نظم و نسق اور انتظام چلانے والا ہے۔‘‘
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کی تائید خود قرآن پاک سے ہوتی ہے کیونکہ اسی آیت کے بعد آتا ہے:
﴿یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہِ مَنْ یَّشَآئُ﴾ (النور: ۳۵)
’’اللہ تعالیٰ نور ہے اور اسی کے نور سے ہدایت ملتی ہے۔‘‘
وہی مومن کے دل میں نور ڈالتا ہے اور اسے ظلمات کفر سے نکال کر نور توحید میں لاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نور ہے اور اس کی کتاب بھی نور ہے۔
اللہ تعالیٰ نور ہے اور اس نے اپنے رسول کو نور ہدایت بنا کر بھیجا ہے۔
اللہ تعالیٰ نور ہے اور اس کے بتلائے ہوئے اعمال بھی مومن کے لیے نور ہیں ۔ ہر ایک نور کو ضیاء و روشنی اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے اسی کی ذات تمام انوار کو صادر کرنے والی ہے۔ مزید فہم معانی کے لیے آیت کے پیوستہ فقرہ پر غور کرو۔
﴿مَثَلُ نُوْرِہِ کَمِشْکَاۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ﴾ (النور: ۳۵)
’’اس جگہ مشکوٰۃ کو نور کا مشبہ بنایا ہے۔‘‘
لہٰذا مَثَلُ نُوْرِہٖ کَنُوْرِ مِشْکٰوۃٍ تسلیم کرنا ہوگا تاکہ نور کی مثال نور کے ساتھ درست ہو جاوے اور پھر مَثَلُ نُوْرِہٖ کو مثل نور ہدایت تعبیر کرنا زیادہ صحیح ٹھہرے گا۔
ہر ایک با ایمان کا ایمان ہے۔ ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ﴾ لہٰذا مشکوٰۃ یا نورِ مشکوٰۃ اصلی نور سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ نور ہے اور ہر ایک شے کو اس کے مصالح کے لیے حاوی اور ہر ایک زندہ کو اس کے منافع کا رہنما ہے۔
اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے ہر ایک شے کو بنایا اور مقتضیات فطرت کا راستہ دکھلایا۔ اللہ تعالیٰ نور ہے۔ وہی رب الانوار ہے۔ انوار الابصار، انوار البصائر کا پروردگار وہی ہے۔
AN-NOOR MEANING IN ENGLISH
The Light, The One who guides