نعتیں

یا نبی یہ کرم ہے تمہارا یہ جو وارے نیارے ہوئے ہیں

یا نبی یہ کرم ہے تمہارا یہ جو وارے نیارے ہوئے ہیں
اب کی کا تصور بھی کیسا جب سے منگتے تمہارے ہوئے ہیں

کوئی منہ نہ لگاتا تھا ہم کو پاس تک نہ بیٹھاتا تھا ہم کو
جب سے تھاما ہے دامن تمہارا یہ دُنیا والے ہمارے ہوئے ہیں

دُور ہونے کو ہے اب یہ دُوری اُن کی چوکھٹ پہ ہو گی حضوری
خواب میں مجھ کو آقا کے در سے حاضری کے اشارے ہوئے ہیں

اُن کے دربار سے میں نے جب بھی پنجتن کے وسیلے سے مانگا
مجھے کو خیرات فوراً ملی ہے خوب ہمارے گزارے ہوئے ہیں

دشمنوں پہ کرم کرنے والے کھا کر پتھر دُعا دینے والے
اک نگاہِ کرم بھی ادھر ہو ہم بھی دردوں کے مارے ہوئے ہیں

داتا لاثانی مہر علی ہو یا ہو اجمیر غوث جلی ہو
جن کے لجپال رب کے ولی ہوں کب کہیں بے سہارے ہوئے ہیں

چاہتا ہے اگر نیک نامی آل اطہار کی کر غلامی
ان کے صدقے میں زاہد نیازی کی پُرسکوں غم کے مارے ہوئے ہیں

زاہد نیازی

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button