نعتیں
بس یہی تمنا ہے بے نوا کے سینے میں کاش یہ گزر جائے زندگی مدینے میں
بس یہی تمنا ہے بے نوا کے سینے میں
کاش یہ گزر جائے زندگی مدینے میں
سینے میں تمنا ہے ہے تمنا سینے میں
مرنا ہے مدینے میں جینا ہے مدینے میں
کاش ان کے کوچے سے لائے صبا یہ پیغام
چل تجھے بلاتے ہیں مصطفیٰ مدینے میں
رات دن مدینے میں رحمتیں برستی ہیں
اس لئے کہ رہتے ہیں مصطفیٰ مدینے میں
بعد میرے مرنے کے ہر زبان پہ چرچا تھا
آدمی تو اچھا تھا مر گیا مدینے میں
ہے خمیر میں میرے خاک ارض طیبہ کی
آیا ہوں مدینے سے جاؤں گا مدینے میں
سب نبی شب اسراء آگئے سوئے اقصیٰ
آپ تھے امام ان کے کیف تھا شبینے میں
مصطفیٰ ہی کیا آئے عرش سے سوئے طیبہ
خلد بھی سمٹ آئی دیکھیے مدینے میں
ائے قضا گلے مجھے کو شوق سے لگا لینا
نعت مصطفیٰ جس دم میں پڑھوں مدینے میں
آج تک مہکتے ہیں راستے مدینے کے
ایسی یکتا خوشبو تھی آقا کے پسینے میں
درمحمد یکتا
