نعتیں
تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماه نبوت ہے اے جلوہ جانانہ
جو ساقی کوثر کے چہرے سے نقاب اٹھے
ہر دل بنے میخانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ
سرشار مجھے کر دے اک جام لب سے
تا حشر رہے ساقی آباد ی میخانہ
ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری
بلبل ہے ترا بلبل پروانہ ہے پروانہ
پیتے ہیں ترے در کا کھاتے ہیں تیرے در کا
پانی ہے ترا پانی دانہ ہے تیرا دانہ
سنگ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ
آباد اسے فرما ویراں ہے دل نوری
جلوے ترے بس جائیں آباد ہو ویرانہ
حضرت امام احمد رضاخان بریلوی
