یہ سرخ بھورے رنگ کا پتھر ہوتا ہے مگر اس میں زردی کی جھلک ہوتی ہے، سفید پتھر میں سنہرا رنگ جھلکتا ہے اور چمک میں بلور سے ملتا جلتا ہے یہ بہت خوبیوں کا مالک ہے سورج کی طرح اپنے چاروں طرف ایک ہالہ رکھتا ہے۔
نام
عربی میں اسے حجر الشمس کہا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے Sun Stone انگریزی میں اسے
اس پتھر کو سنسکرت میں سوریا کا نام دیا گیا ہے۔
مختلف زبانوں میں اس کے مختلف نام ہیں، مثلاً صلے کٹ میلے اسٹون پر وفری وغیرہ۔
خواص
دل و دماغ کو سکون اور فرحت بخشتا ہے مسرتوں سے مالا مال کرتا ہے
یہ انسان کو خوف و ہراس اور ڈرنے سے بچاتا ہے۔
آدمی میں وفا شعاری کے بہترین جذبات کی نشو و نما کرتا ہے
یہ پتھر چاندی کواپنے اندر جذب کر لیتا ہے اس کی انگوٹی جنون اور خفقان میں مفید ہے
یہ پتھر کمر میں باندھنے سے خوف وڈر رفع ہو جاتا ہے۔
حکمائے سابقین نے لکھا ہے کہ اس پتھر کو درخت خرما پر باندھنے سے پھل آتے ہیں۔
یہ پتھر نیند نہ آنے یا بے خوابی کے امراض کو دور کرتا ہے
اس کی وجہ سے خلل دماغ ، جنون اور پاگل پن جاتا رہتا ہے۔
اس کی انگوٹھی بہت سے امراض کے علاوہ بہت سے امراض و آفات سماوی وارضی سے بچاتی ہے اور انسان میں اعلیٰ قسم کے اوصاف پیدا کرتی ہے۔
کیمیائی تراکیب
اس چمکدار اور بے حد خوشنما پتھر میں آکسیجن ایلونیا، سلیکا سوڈا کروم اور مسیلیم کے کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔
لکی اسٹون
اس پتھر کا موافق ستارہ شمس ہے سن اسٹون کا تعلق برج اسد سے ہے جو لوگ 22 جولائی تا 22 اگست کے درمیان پیدا ہوتے ہیں ان کے لیے حجر الشمس برتھ اسٹون یا پیدائشی پتھر کہلاتا ہے اس کے علاوہ جن کا نام صرف م وہ ح اورخ سے شروع ہوتا ہے ان سب لوگوں کوسن اسٹون کا پتھر راس آتا ہے یہ ان لوگوں کے لیے بھی خیر و برکت کا سبب ہوتا ہے جو نام یا تاریخ پیدائش کے سبب عدد چار حاصل کرتے ہیں۔



