اردو شاعریغزلیں

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی – غزل علامہ اقبال

Poch Is Se K Maqbool Hai Fitrat Ki Gawahi - Ghazal by Poet Allama Iqbal

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری
مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

میں نے تو کیا پردۂ اسرار کو بھی چاک
دیرینہ ہے تیرا مرض کور نگاہی

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button