اردو شاعریغزلیں

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی – غزل علامہ اقبال

Ye Payam Dy Gyee Hai Mujhe Bad-e-Subahgahi - Ghazal by Poet Allama Iqbal

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی

نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے تو نہ رہ نشیں نہ راہی

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی

یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا
لغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button