محمد مصطفی جب حشر میں تشریف لائینگے
محمد مصطفیٰ جب حشر میں تشریف لائینگے
تو اپنے نام لیونکو اشارے میں چھڑائیں گے
جو محشر میں پکاریں گے اغثنی یا رسول اللہ
تو ان کی دستگیری کے لئے سرکار آئیں گے
اگر چه مجرم و عاصی ہیں ہم لیکن یقین یہ ہے
رسول اللہ ہماری حشر میں بگڑی بنائیں گے
جہنم چیخنا جب عرصہ محشر میں آئے گا
سیہ کاروں کو وہ دامان رحمت میں چھپائیں گے
گنہ گاروں کی بخشش کا رہے گا ان کے سر سہرا
شفاعت کا رسول اللہ کو دولہا بنائیں گے
بحمد اللہ بچا کر نار سے فردوس اعلیٰ میں
وہ اپنے سامنے ایک ایک کو داخل کرائیں گے
شفاعت کر کے ہر امت کی درگاہ الہی میں
خدائے پاک سے ماہ مدینہ بخشوا ئیں گے
گناہ امت کے اڑ جائیں گے محشر میں ہوا بن کر
نظر رحمت کی ہم پر ڈال کر جب مسکرائیں گے
جو ہونگی حشر میں سوکھی زبانیں پیاس سے باہر
تو شاہ خلد و کوثر جام بھر بھر کے پلائیں گے
نہیں گو مال و زرلیکن مدینے میں پہنچ کر ہم
درودوں کے پرو کر ہار روضے پر چڑھائیں گے
خدا چاہے تو پایش حق عدالت میں کھڑے ہو کر
جمیل قادری نعت اپنے مولیٰ کی سنائیں گے
مولانا جمیل قادری