اردو شاعریغزلیں
زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں – غزل علامہ اقبال
Zindgi Insan Ki Ek Dam Ke Siwa Kuch Bhi Nahi - Ghazal by Poet Allama Iqbal
زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
دم ہوا کی موج ہے رم کے سوا کچھ بھی نہیں
گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر
شمع بولی گریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں
راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو
کھل گیا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں
زائران کعبہ سے اقبالؔ یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
شاعر: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال