الصمد نام کا مطلب
الصمد نام کا مطلب ہے بے نیاز
الصمد نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
اس اسم پاک کے لغوی معانی بھی ہیں اور شرعی بھی۔ ائمہ لغت نے بیان کیا ہے۔
صمد وہ ہے جس میں جوف نہ ہو۔
صمد وہ ہے جس میں احشانہ ہو۔
صمد وہ ہے جس میں سے کوئی شے خارج نہ ہو۔
صمد وہ ہے جس کی احتیاج سب کو ہو۔
صمد وہ حی القویم ہے جسے زوال نہیں ۔ (حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ )
صمد وہ سید ہے جسے کامل سیادت حاصل ہو۔ (اعمش عن شفیق رحمہ اللہ )
صمد وہ سید ہے جو سیادت میں کامل ہو، وہ مالک شرف ہے جو شرف میں کامل ہو، وہ عظیم ہے جو عظمت میں کامل ہو۔
وہ حکیم ہے جو حکمت میں کامل ہو۔
صمد وہ ہے جو جملہ انواعِ شرف و سیادت میں کامل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی بھی صمد ہونے کی شان نہیں رکھتا۔ اس کا کوئی کفو نہیں ۔ اس کی کوئی مثل نہیں ۔ واحد القہار وہی ہے۔ (علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما )
صمد وہ ہے جو کھانا نہ کھائے۔ (حکیم ابن امان عن عکرمہ رحمہ اللہ )
صمد وہ ہے جو نہ کھائے نہ پئے۔ (شعبی رحمہ اللہ )
صمد وہ ہے جو پیدا شدہ نہ ہو جس سے کوئی پیدا نہ ہو کیونکہ ہر ایک پیدا ہونے والی شے کے لیے موت ہے۔ ہر ایک مرنے والے کے لیے ورثہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ موت ہے نہ وارث ہے۔ کوئی اس کا کفو نہیں ۔ کوئی اس کا مشابہ نہیں ۔ کوئی اس کے برابر کا نہیں ۔ کوئی اس کی مثال کی مثال جیسا بھی نہیں ۔
صمد میں معنی جامعیت پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً مکان، مرتفع، مضبوط کو اہل لغت مصمود کہتے ہیں ۔ یعنی قوت و تماسک و اجتماع اجزاء کی اوصاف کی وجہ سے۔ پس صمد وہ ہے جو اپنی ہستی میں مجتمع قوی ثابت ہو اور باقی لوگ اس کے احتیاج مند دست نگر ہوں ۔ وہی مرجع حاجات ہو اور منتہی کمالات۔ (ابن تیمیہ رحمہ اللہ )
صمد وہ ہے جو سید سب پر حکمران۔ (امام بخاری رحمہ اللہ )
AS-SAMAD MEANING IN ENGLISH
The Self Sufficient, The Master who is relied upon in matters and reverted to in ones needs