الاحد نام کا مطلب
الاحد نام کا مطلب ہے اکیلا
الاحد نام کی تفصیل بحوالہ قرآن و حدیث
واضح ہو کہ ائمہ لغت کے نزدیک احد دراصل وحد تھا۔ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ہے۔
علماءِ معانی نے ہر دو اسماء کی کچھ خصوصیات بھی بیان کی ہیں ۔
واحد وہ ہے جو عدیم التجزی ہے۔ یعنی جس کا تجزیہ نہیں ہوسکتا۔
احد وہ ہے جو عدیم التثنی ہے یعنی جس کی نظیر کوئی نہیں ۔
لفظ واحد کا محل اثبات میں دیگر اشیاء پر بھی ہو جاتا ہے۔ جیسے رجل واحد و درہم واحد (ایک آدمی ایک روپیہ) مگر لفظ اَحَد کا اطلاق اثباتاً اللہ کے سوا اور کسی پر نہیں ہوتا۔ ہاں لفظ احد کا استعمال نفی دیگر میں ہوتا ہے اور اس وقت نفی نہایت مکمل نفی ہوتی ہے مثلاً ﴿وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ﴾ (الاخلاص: ۴) ’’کہو اللہ کا کفو کوئی بھی تو نہیں ‘‘ پر غور کرو کہ کفوِ الٰہی کی نفی لفظ احد سے کی ہے اور یہ ایسی نفی ہے کہ اس کے بعد کوئی استثنا وغیرہ نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں لفظ احد بطور اسم پاک صرف ایک ہی مقام ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ میں مستعمل ہوا ہے اور یہ بھی دلائل احدیت میں سے ایک عجیب دلیل ہے۔ احدیت اپنی شان میں ایسی مکمل ہے کہ تکرار لفظی بھی نہیں ہوا۔ واہ۔ وا۔ مرحبا۔ زہے خوب!
AL-AHAD MEANING IN ENGLISH
The One, the All Inclusive