نعتیں

زندگی نا کام ہے جب تک جبیں سائی نہ ہو

زندگی نا کام ہے جب تک جبیں سائی نہ ہو
سر کو قدموں پر جھکانے کی قسم کھائی نہ ہو

جذبہ تاثیر الفت دیکھنا ہے ناصحا
ٹھہرو ٹھہرو اُن کے آنے کی خبر آئی نہ ہو

چل رہی ہے آج اٹھلاتی ہوئی باد نسیم
مژده دیدار حضرت ساتھ میں لائی نہ ہو

کشته عشق بنی ہے پوچھتے کیا ہو اسے
گوشہ چشم عنایت میں جگہ پائی نہ ہو

عشق کی دیوانگی ہے اصل میں فرزانگی
ہو نہیں سکتا کہ دیوانہ ہو شیدائی نہ ہو

ذکر میرا کر کے محفل میں وہ فرمانے لگے
داستانِ عشق اُس نے اپنی دہرائی نہ ہو

ہر نفس میں جس کے ہو پوشیدہ صد روح حیات
ذکر میں اس کے بھلا کیونکر سچائی نہ ہو

مرکز حسن ازل ہے ذات والائے حضور
کس لئے پھر اس میں ظاہر شان یکتائی نہ ہو

نبی وہ شاہ وہ انسان کامل وہ حکیم
سامنے جس کے کسی کو تاب گویائی نہ ہو

جس کے زیر لب تبسم تھا سرا جنبش گناں
جس کی پیشانی پہ اک ادنی شکن آئی نہ ہو

ملت بیضاء سے جس کے کل مذاہب سرد ہوں
آنکھ اُس کے سامنے دنیا کی شرمائی نہ ہو

جام الفت ہاتھ میں ہے چشم ساقی بادہ ریز
اب بلا سے میرے آگے جام مینائی نہ ہو

وہ آرزو ہے دل میں باقی رہ گئی
جو لبوں پر آتے آتے میرے بر آئی نہ ہو

وه شبه خوبان عالم جلوہ فرما ہو جہاں
کیا یہ ممکن ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی نہ ہو

دیوان سید آل رسول علی خان

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button