اردو شاعریغزلیں

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم – غزل علامہ اقبال

Taza phir danish hazir ny kiya sehar qadeem - Ghazal by Poet Allama Iqbal

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ ملا ہے، نہ زاہد نہ حکیم

عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
سب مسافر ہیں بظاہر نظر آتے ہیں مقیم

ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے تو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند نسیم

مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و سیم

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button