صحیح بخاری، کتاب وحی کی ابتداء، حدیث نمبر1
Sahih al Bukhari The Book of Revelation Hadith No. 1
تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔
تشریح:
یہ حدیث اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے اور دین کے پورے نظامِ اعمال کو ایک واضح اصول عطا کرتی ہے: اللہ کے ہاں کسی عمل کی اصل قدر و قیمت نیت سے متعین ہوتی ہے۔ بظاہر ایک ہی عمل کرنے والے دو افراد کا اجر مختلف ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے دلوں کے ارادے مختلف ہوتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کی ابتدا اسی حدیث سے کی تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ دین میں علم حاصل کرنا، حدیث جمع کرنا، عبادت کرنا یا کوئی بھی نیکی انجام دینا—سب اسی وقت قابلِ قبول ہیں جب ان کی بنیاد خالص نیت پر ہو۔ نیت کے بغیر عمل صرف ظاہری حرکت رہ جاتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی وزن نہیں۔
اس حدیث میں ہجرت کی مثال دے کر نیت کی حقیقت کو نہایت واضح انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ ہجرت بظاہر ایک عظیم دینی عمل ہے، لیکن اگر کوئی شخص اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے بجائے دنیاوی فائدے یا ذاتی مقصد کے لیے کرے، تو اسے وہی ملے گا جس کی نیت اس نے کی—اللہ کے ہاں اس عمل کا دینی اجر نہیں ہوگا۔
یہ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عمل کی درستی دو چیزوں سے مشروط ہے:
-
وہ عمل وحیِ الٰہی کے مطابق ہو
-
وہ خلوصِ نیت کے ساتھ کیا گیا ہو
وحی کے بغیر عمل درست نہیں ہوتا، اور نیت کے بغیر عمل معتبر نہیں رہتا۔ اسی لیے دل کا ارادہ اصل بنیاد ہے؛ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا شریعت سے ثابت نہیں، اصل نیت دل کے اندر کا پختہ قصد ہے۔
آخر میں یہ حدیث ہر طالبِ علم، داعی، قاری اور نیکی کرنے والے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ بار بار اپنی نیت کا محاسبہ کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نیکی کی صورت موجود ہو مگر اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے اجر ضائع ہو جائے۔ اللہ کے نزدیک وہی عمل مقبول ہے جو صحیح طریقے اور خالص نیت کے ساتھ کیا جائے۔
Allah’s Messenger (PBUH) saying, The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for.
‘আলক্বামাহ ইব্নু ওয়াক্কাস আল-লায়সী (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমি ‘উমর ইব্নুল খাত্তাব (রাঃ)-কে মিম্বারের উপর দাঁড়িয়ে বলতে শুনেছিঃ আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছিঃ কাজ (এর প্রাপ্য হবে) নিয়ত অনুযায়ী। আর মানুষ তার নিয়ত অনুযায়ী প্রতিফল পাবে। তাই যার হিজরত হবে ইহকাল লাভের অথবা কোন মহিলাকে বিবাহ করার উদ্দেশ্যে- তবে তার হিজরত সে উদ্দেশ্যেই হবে, যে জন্যে, সে হিজরত করেছে। (৫৪, ২৫২৯, ৩৮৯৮, ৫০৭০, ৬৬৮৯, ৬৯৫৩; মুসলিম ২৩/৪৫ হাঃ ১৯০৭, আহমাদ ১৬৮) ( আধুনিক প্রকাশনী- ১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন ১)

