رمضان

رمضان المبارک رمضان میں تقویٰ، روزے کا اصل حاصل

Ramadan Mubarak: Taqwa in Ramadan, the real benefit of fasting

رمضان صرف بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں۔

یہ دل میں اللہ کا خوف بٹھانے کا مہینہ ہے۔

اور اسی خوف کا نام تقویٰ ہے۔


 تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ:

  • اللہ کی نافرمانی سے بچنا

  • اور اس کی اطاعت کو اختیار کرنا ہے۔

یہ:

  • لباس نہیں

  • دعویٰ نہیں

  • بلکہ عمل ہے۔


 روزے کا مقصد: تقویٰ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورۃ البقرہ: 183)

یعنی:
روزے تم پر فرض کیے گئے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔


 تقویٰ رمضان میں کیسے بڑھتا ہے؟

1) حرام سے رکنا

صرف کھانے سے نہیں نگاہ، زبان اور دل سے بھی۔


2) فرائض کی پابندی

نماز تقویٰ کی بنیاد ہے۔


3) تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھنا

یہ حقیقی تقویٰ ہے۔


 تقویٰ کے اثرات

  • دل صاف ہوتا ہے

  • فیصلے درست ہوتے ہیں

  • گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے

  • اللہ کی مدد شامل ہوتی ہے


 اصل پیغام

رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

  • اصل کامیابی افطار میں نہیں بلکہ کردار میں ہے اور جس نے تقویٰ حاصل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا۔


 اختتامی دعا

اے اللہ!
ہمارے دلوں میں اپنا خوف پیدا فرما،
ہمیں ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچا،
اور اس رمضان کو ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ بنا دے۔
آمین۔

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button