پیغام صباء لائی ہے گلزار نبی سے آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
ہر اشک پہ اک خُلد ہے ہراشک کی قیمت
تحفہ یہ ملا ہے مجھے دربار نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے
جس پہ نثار جان و پناه و ظفر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
گرمی ہے تپ ہے درد ہے الفت سفر کی ہے
نه شکر یہ تو دیکھ عظمت کدھر کی ہے
اُن پر درود جن کو ہجر تک کرے سلام
اُن پر سلام جن کو تہیت شجر کی ہے
اُن پر درود جس کو کسے بے کساں کہے
اُن پر سلام جن کو خبر بے خبر کی ہے
جن و بشر سلام کو حاضر ہیں اسلام
یہ بارگاه مالک جن و بشر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں اسلام
خوبی انہی کی جوت سے شمس و قمر کی ہے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں اسلام
کلمے سے تر زبان درخت و ہجر کی ہے
سب بہر و بر سلام کو حاضر ہیں اسلام
تملیک انہی کے نام تو ہر بہر و بر کی ہے
عرضی و عصر سلام کو حاضر ہیں اسلام
ملجا یہ بارگاہ دُعا و عصر کی ہے
شوری دا سر سلام کو حاضر ہے اسلام
راحت انہی کے قدموں میں شوری دا سر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
خستہ جگر سلام کو حاضر ہے اسلام
مرکز بھی یہی خاک کو خستہ جگر کی ہے
سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں اسلام
یہ جلوہ گاہ مالک ہر خشک و تر کی ہے
سب کر روں و بہر سلام کو حاضر ہیں اسلام
ٹوپی یہی تو خاک پہ ہر کر روں فر کی ہے
اہل نظر سلام کو حاضر ہیں اسلام
یہ گرد گی تو سرما سب پہلے نظر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنّت کی جوانی
سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی
الفت ہے مجھے مجھے سایہ دیوار نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
یہ پیاری پیاری کیاری تیرے کونوں باغ کی
سر جس کی آب و تاب سے سے آکش سفر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
جنت میں آ کے نار میں جاتا نہیں کوئی
شکر خدا نوید کو نجات و ظفر کی ہے
الفت ہے مجھے مجھے سایہ دیوار نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
مومن ہوں مومنوں میں رہوں کُل رحیم ہوں
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لہ نظر کی
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
جن جن مرادوں کے لئے احباب نے کہا
پیش خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی
آں کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا
مشتاق کو کب لذت سوزش جگر کی
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے
چھیتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے
ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشت آمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
ہم جائیں اور قدم سے لے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا نے تجھ کو یہ عظمت سفر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
چھائے ملائکہ نہیں لگاتار ہے درود
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش اور ہر کی ہے
ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگی زلف و آٹھوں پہر کی ہے
جو اک بار آئے، دوبارہ نہ آئیں گے
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے
تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے
لب وا ہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے
مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ لا ہے نہ حاجت اگر کی ہے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
جنت نہ دیں، نہ دیں، تری روبت ہو خیر
اس گل کے آگے کس کی ہوس برگ و بر کی ہے
شربت نہ دیں نہ دیں، تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے
سنکی وہ دیکھ باد شفاعت کہ دے ہوا
یہ آبرو رضا ترے دامان تر کی ہے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
عاشق ہوں مجھے عشق ہے دیوار نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
واللہ رازدار ہیں طیبہٰ کے باب کے
بکھرے ہوئے ورق مری دل کی کتاب کے
مجھ کو سنبھالیئے مجھے اپنی جناب سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبیﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبیﷺ سے
اعلی حضرت رضا خان بریلوی