نعتیں

پارے پارے پہ لکھا ہے کملی والے کا نام

پارے پارے پہ لکھا ہے کملی والے کا نام
کملی والے محمد پہ لاکھوں سلام

يا خدا ہم غریبوں کی فریاد سن
بے کسوں بدنصیبوں کی فریاد سن

کملی والے محمد کی امت ہیں ہم
سچ تو یہ ہے کہ تیری امانت ہیں ہم

پھر بھی دنیا میں کوئی ہمارا نہیں
ہم غریبوں کا کوئی سہارا نہیں

کیوں ستاتا ہے ظالم زمانہ ہمیں
کوئی آسان نہیں ہے مٹانا ہمیں

ہے ہماری زباں پہ محمد کا نام
کملی والے محمد پہ لاکھوں سلام

دل میں امنڈا ہوا تم کا طوفان ہے
پھر بھی غفلت میں ہر اک مسلمان ہے

کس لئے اپنی دولت پہ پھولا ہے تو
کملی والے محمد کو بھولا ہے تو

ہائے کیا ہو گیا تیرے ایمان کو
طاق پر رکھ دیا تو نے قرآن کو

دل میں تیرے نبی کی محبت نہیں
تجھ کو مسجد میں جانے کی فرصت نہیں

دین و ایمان سے منہ موڑ بیٹھا ہے تو
اپنے اللہ کو چھوڑ بیٹھا ہے تو

پھر بھی ہے تیرے لب پہ یہی صبح و شام
کملی والے محمد پہ لاکھوں سلام

خیر و برکت کا سامان لائے نبی
انتہا یہ ہے کہ قرآن لائے نبی

بے سہاروں کو انور سہارا ملا
مرحبا ڈوبتوں کو کنارا ملا

جس کو سرکار کا آسرا مل گیا
سمجھ لو کہ اس کو خدا مل گیا

لب جو کھولے محمد نے تقریر کو
توڑ ڈالا غلامی کی زنجیر کو

ہو گئے دم میں آزاد سارے غلام
کملی والے محمد پہ لاکھوں سلام

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button