اردو شاعریغزلیں
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی – غزل علامہ اقبال
Na Ate Hume es Mein takrar kiya thee - Ghazal by Poet Allama Iqbal
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی
تأمل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی
کھنچے خود بخود جانب طور موسیٰ
کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی
کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی
شاعر: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال