نعتیں

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی تیری راہ میں آنکھیاں بچھاتے بچھاتے

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی
تیری راہ میں آنکھیاں بچھاتے بچھاتے

تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں
بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے

میرا یہ ہے ایمان یہ میرا یقین ہے
کہ میرے مصطفے سا نہ کوئی حسیں ہے

کہ رخ ان کا دیکھا ہے جب سے قمر نے
نکلتا ہے منہ کو چھپاتے چھپاتے

قیامت کا منظر بڑا پرخطر ہے
مگر مصطفے کا جو دیوانہ ہو گا

وہ پل پر سے گزرے گا مسرور ہو کر
نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے

یہ دل جب سے عشق نبی میں پڑا ہے
نہ دن کی خبر ہے نہ شب کا پتہ ہے

کہ اب تو بصارت بھی کم ہوگئی ہے
تیرے غم میں آنسو بہاتے بہاتے

میرے لب پہ مولا نہ کوئی صدا ہے
فقط مجھ نکمے کی بس یہ دعا ہے

کہ میری سانس نکلے درئے مصطفے پر
غم دل نبی کو سناتے سناتے

نواسوں کا صدقہ اب آ بھی جاؤ
پیاسی نگاہوں کی پیاس بجھاؤ

کہ اب عمر کی شام ڈھلنے لگی ہے
جدائی کے صدمے اٹھاتے اٹھاتے

مانا کہ اک دن آنی قضا ہے
مگر دوستوں یہ میری التجا ہے

کہ شہر مدینہ کی ہر اک گلی سے
جنازہ اٹھانا گھماتے گھماتے

میں قربان تیری سخاوت پہ آقا
کہ تھک ہار جاتے ہے خود لینے والے

مگر میرے آقا تو تھکتے نہیں ہے
کرم کے خزانے لٹاتے لٹاتے

ہے کعبہ بھی حاکم بڑی شان والا
مگر میرے دل میں تمنا یہی ہے

نہ مل جائے نقشِ کف پائے احمد
تو مر جاؤں سر کو جھکاتے جھکاتے

احمد علی حاکم

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button