کملی والے میں تیرے قربان دونوں جہاں کے راج دلارے نبیوں کے سلطان
کملی والے میں تیرے قربان
دونوں جہاں کے راج دلارے نبیوں کے سلطان
رتبہ تیرا سب سے اعلیٰ سب سے اونچی شان
یہ تو میری بات نہیں ہے رب کا ہے فرمان
تو جس کو مل جائے اُس کو مل جائے رحمان
کملی والے میں تیرے قربان
چاہے کوئی مفلس ہو یا ہو کوئی لاچار
جو بھی آئے تیرے در پر اُس کا بیڑا پار
نور برستا ہے روضے پر ہر سو ہر ہر آن
کملی والے میں تیرے قربان
شمس و قمر ہیں تیرے تا ہے اے رب کے محبوب
اللہ تیرا خود طالب ہے اور تو ہے مطلوب
سارے نبی ہیں تیرے ثناخواں روح الامیں دربان
کملی والے میں تیرے قربان
نام تیرا جو لیتے ہیں ہر صبح اور ہر شام
اُن کی مشکل حل ہوتی ہے اور بنتے ہیں کام
شاہ و گدا سب تیرے سوالی یہ ہے تیری شان
کملی والے میں تیرے قربان
جا کہ دیکھا افریقہ میں دیکھا پاکستان
ملک عرب ہو یا ہو یورپ یا ہو ہندوستان
تیرے عاشق ہیں ہر جانب چین ہو یا جاپان
کملی والے میں تیرے قربان
طیبہ میں مر جائے محسن ہے یہی ارمان
تیری نسبت سے ہی دُنیا میں میری پہچان
تو ہی بچائے گا محشر میں ہے میرا ایمان
کملی والے میں تیرے قربان
محسن علی محسن