اردو شاعریغزلیں

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے – غزل علامہ اقبال

Hadisa Wo Jo Abhi Parda-e-Aflak Mein Hey - Ghazal by Poet Allama Iqbal

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

نہ ستارے میں ہے نے گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بیباک میں ہے

یا مری آہ میں ہی کوئی شرر زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش جو تری خاک میں ہے

توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و روز
گرچہ الجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button