اردو شاعریغزلیں

دل بیدار فاروقی دل بیدار کراری – غزل علامہ اقبال

Dil-e-Baidar Farooqi Dil-e-Baidar Karari - Ghazal by Poet Allama Iqbal

دل بیدار فاروقی دل بیدار کراری
مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری

دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری

مشام تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری

اس اندیشے سے ضبط آہ میں کرتا رہوں کب تک
کہ مغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی چنگاری

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری

تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button