اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں – غزل علامہ اقبال
Apni Julaa gaah Zer-e-aasmaa Samjha Tha Main - Ghazal by Poet Allama Iqbal
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں
بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا
مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
کہہ گئیں راز محبت پردہ داری ہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں
تھی کسی درماندہ رہ رو کی صدائے دردناک
جس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں
شاعر: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال