اردو شاعریغزلیں

تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ – غزل علامہ اقبال

Teri Nigah Firomaya Hath Hai Kotah - Ghazal by Poet Allama Iqbal

تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ
ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی راہ

حدیث دل کسی درویش بے گلیم سے پوچھ
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ

برہنہ سر ہے تو عزم بلند پیدا کر
یہاں فقط سر شاہیں کے واسطے ہے کلاہ

نہ ہے ستارے کی گردش نہ بازی افلاک
خودی کی موت ہے تیرا زوال نعمت و جاہ

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ

شاعر:  ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ملتے جُلتے مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button